بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

رینجرزاورنیب کی کارروائیوں سے سندھ حکومت اور سرکاری افسران کی نیندیں اڑ گئیں

datetime 22  جون‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک )سندھ میں رینجرز اور نیب کی کارروائیوں کے بعد سرکاری افسران اور سندھ حکومت کی نیندیں اڑ گئی جب کہ وزیراعلی سندھ کی انسپکشن ٹیم کے سربراہ عبدالسبحان میمن اور سابق چیف سیکرٹری غلام علی شاہ نے نیب کی کارروائیاں رکوانے کے لئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی انسپکشن ٹیم کے سربراہ عبدالسبحان میمن کی جانب سے نیب انکوائری روکنے کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ نیب نے میرے خلاف زمینوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی انکوائری شروع کردی ہے اور خدشہ ہے کہ نیب انہیں گرفتار کرلے گی اس لئے نیب کو کارروائی سے روکا جائے۔ عدالت نے چیئرمین نیب اور دیگر کو 29 جون کے لئے نوٹسز جاری کردیئے۔دوسری جانب نیب انکوائری سے پریشان سابق چیف سیکرٹری سندھ غلام علی شاہ نے بھی نیب کارروائی روکنے کے لئے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرادی ہے جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت پہلے ہی ان کے خلاف نیب کو کسی بھی غیرقانونی اقدام سے روکنے کا حکم جاری کرچکی ہے اس لئے نیب کو کارروائی سے روکا جائے۔ذرائع کے مطابق زمینوں کے معاملات اور کرپشن کے خلاف نیب اور رینجرز کی کارروائیوں پر سندھ حکومت نالاں ہے اور خاص طور پر رینجرز کے چھاپوں سے پریشان سندھ حکومت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو قانونی راستہ نکالنے کی ہدایت کی جس پر قانونی ماہرین نے صوبائی حکومت کو رائے دی ہے کہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت رینجرز کو کارروائیوں سے نہیں روکا جاسکتا، صوبائی حکومت نے خود رینجرز کو پولیس کے اختیارات دیئے ہیں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے رینجرز کو چھاپوں کا اختیار حاصل ہے جب کہ رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات کی مدت 15 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قانونی ماہرین نے سندھ حکومت کو نیب کے چھاپوں سے چھٹکارے سے متعلق قانونی پوزیشن سے آگاہ کردیا اورحکومت کو مشورہ دیا ہے کہ نیب کی کارروائیوں سے بچنے کے لئے حکومت اپنا احتساب بل لائے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…