پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے پاس2200وینٹی لیٹرز موجود ،ضرورت پڑنے پر آپریشنل میں کتنے میسرہیں؟جان کر آپ کے ہوش اڑ جائینگے، اہم انکشافات

datetime 25  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس 2200 وینٹی لیٹرز موجود ہیں لیکن آپریشنل حالت میں 50 فیصد بھی نہیں ہیں، کل سے ماسک اور دیگر سامان آنا شروع ہوجائے گا۔سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 2200 وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

لیکن اگر ان کی ضرورت پڑی تو ہمارے پاس آپریشنل حالت میں 50 فیصد بھی میسر نہیں ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے چین کے علاوہ پوری دنیا سے ہمیں کچھ نہیں مل رہا، روزانہ تین سے چار دفعہ چینی سفیر کو کال کرتا ہوں تو تب جا کر ہمیں راستہ مل رہا ہے کہ وہ اپنی فیکٹریوں کو ہدایات دے رہے ہیں کہ پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر سامان مہیا کیا جائے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ کل سے ایک ملین ماسک آنا شروع ہوجائیں گے، جس میں 50 ہزار این 95 ماسک بھی ہوں گے، پرسوں 30 ہزار کے قریب ڈاکٹرز کیلئے اشیا آئیں گی، لاہور کی ایک فیکٹری کیلئے کپڑا بھی آرہا ہے، 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس بھی آجائیں گی۔ ہماری ایک فلائٹ ووہان جائے گی جہاں سے 16 سے 17 وینٹی لیٹرز اور دیگر سامان آئے گا۔جمعہ کو ایک فلائٹ بیجنگ یا چینگ ڈو جائے گی جہاں سے مزید سامان آئے گا۔ ہفتے کو 12 ٹن کے قریب سنکیانگ سے ایک جہاز سامان لے کر آئے گا۔لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ 28 مارچ کو ہم چین کے ساتھ ایک دن کیلئے بارڈر کھولیں گے تاکہ جہاز کے علاوہ زمینی راستے سے بھی سامان آسکے، اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی امپورٹرز سے کہا ہے کہ اپنے آرڈر بک کریں اور جو لاسکتے ہیں لے کر آئیں میں انہیں سہولت دوں گا۔

اس وقت موقع ہے کہ جن لوگوں نے کافی پیسے رکھے ہوئے ہیں وہ باہر سے چیزیں منگوائیں، میں ون ونڈو کے طور پر انہیں کسٹم اور دوسری جگہوں سے کلیئر کرائوں گا، ان سے یہ چیزیں میں بھی خریدوں گا، صوبے اور اضلاع بھی ان کی چیزیں خریدیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈیڑھ مہینے میں 6 آرڈر بک کیے ہیں، ہم نے 4 سے ساڑھے 4 ہزار وینٹی لیٹرز لینے ہیں لیکن چین میں کچھ کمپنیوں کے پورے سال کی پروڈکشن یورپ اور خلیجی ممالک نے بک کرلی ہے، ہم نے بھی بہت سے آرڈرز بک کرالیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…