جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

چین میں معاشی سست روی سے متاثرہ 20 ممالک میں پاکستان بھی شامل ، برآمدات میں 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی

datetime 9  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) نے پاکستان ان 20 ممالک میں شامل کیا ہے جو چین میں کورو وائرس کی وجہ سے معاشی سست روی سے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متاثرہ ویلیو چین ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی ہے جس میں چین کے لیے برآمدات میں 2 فیصد (4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کمی آئی ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اور خطے یہ ہیں: یوروپی یونین کے بعد ریاستہائے متحدہ ، تائیوان ، برطانیہ ، جاپان ، جنوبی کوریا ، تائیوان ، ویتنام ، میکسیکو ، سوئٹزرلینڈ ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ ہیں ،یو این سی ٹی اےڈی کے تخمینوں کے مطابق کورونا وائرس یا کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے چین میں مینوفیکچرنگ کی سست روی عالمی تجارت میں خلل ڈال رہی ہے اور اس کا نتیجہ عالمی ویلیو چینزمیں برآمدات میں 50 ارب ارب ڈالر کی کمی ہوسکتی ہے۔فروری میں ملک کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجر انڈیکس (پی ایم آئی)، جو ایک اہم پروڈکشن انڈیکس ہے، تقریبا 22 پوائنٹس کی کمی سے 37.5 پر آگیا، جو 2004 کے بعد سب سے کم سطح ہے، پیداوار میں اس طرح کی کمی سے سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 2 فیصد کمی کا ظاہر ہوتی ہے۔چونکہ چین متعدد عالمی کاروباری کاموں کا مرکزی مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے اس لیے چینی پیداوار میں کمی کسی بھی ملک کے لیے اس لیے اہم ہے اس کی صنعتوں کا چینی سپلائرز پر کتنا انحصار ہے۔یو این سی ٹی اے ڈی کے تخمینے کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں صحت سے متعلق آلات، مشینری، آٹوموٹِو اور مواصلات کا سامان شامل ہے۔

سب سے زیادہ متاثرہ معیشتوں میں یورپی یونین (15 ارب 60 ڈالر)، امریکا (5 ارب 80 کروڑ ڈالر)، جاپان (5 ارب 20 کروڑ ڈالر)، جنوبی کوریا (3 ارب 80 کروڑ ڈالر)، تائیوان (2 ارب 60 کروڑ ڈالر) اور ویتنام (2 ارب 30 کروڑ ڈالر) شامل ہیں۔یو این سی ٹی اے ڈی کا کہنا ہے کہ جہاں کورونا وائرس سے چین کی پیداواری صلاحیت پر پائے جانے والے اثرات کے بارے میں ابھی تک غیر یقینی صورتحال موجود ہے وہیں حالیہ اعداد و شمار ایک اہم مندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر ویلیو چینز پر کورونا وائرس کا پورا اثر آنے والے مہینوں میں واضح ہوجائے گا، تاہم اہم سوال یہ ہے کہ چین کی سپلائی میں رکاوٹ کا اثر باقی دنیا پر کیا ہوگا۔یہاں تک کہ اگر کورونا وائرسکی وبا زیادہ تر چین کے اندر موجود ہے تو چین کے سپلائرز دنیا بھر کی بہت سی کمپنیوں کے لیے اہم ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں کسی بھی رکاوٹ کو چین کی حدود سے باہر بھی محسوس کیا جائے گا۔تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے مطابق، یورپی، امریکی اور مشرقی ایشیائی خطے کی ویلیو چین اس سے متاثر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…