جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

نیب کے غلط اختیارات کے استعمال سے معیشت پر منفی اثرات مرتب، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزمان کی گرفتاری پر نیب اختیارات پر اہم سوال اٹھا دیئے

datetime 7  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں پی ٹی اے کے ڈی جی عبدالصمد اور ڈائریکٹر امجد مصطفیٰ کی ضمانت منظوری کا 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے۔

فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کے دستخط سے جاری کیا گیا۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں نیب کے ملزمان کی گرفتاری کے اختیارات پر اہم سوال اٹھا دیئے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن سب سے بڑی برائی ہے جس نے ملک کو کھوکھلا کر دیا، کرپشن نے معاشی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو بری طرح متاثر کیا، کرپشن سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کرپشن کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے بلا تفریق احتساب ضروری ہے، نیب ایسا ادارہ بنے کہ کرپٹ اس سے ڈریں اور عام لوگوں کا اس پر اعتبار ہو، وائٹ کالر کرائم سے نمٹنے کے لیے تفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ تربیت بھی لازم ہے، تفتیشی افسر ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مناسب پابندی عائد کرسکتا ہے تاہم گرفتاری کے صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال عوامی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے، نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ بھی گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کر چکی ہے کہ جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد کی عدم موجودگی پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، گرفتاری سے پہلے نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہونا لازمی ہیں، نیب کے پاس ایسے شواہد ہونے لازم ہیں جو ملزم کا جرم سے بادی النظر میں تعلق جوڑیں، نیب کے پاس شواہد ہونے چاہئیں کہ ملزم کی نیت مالی یا ذاتی فوائد لینے کی تھی ، ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں اس کی گرفتاری اختیار کا غلط استعمال ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…