بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا خوف، کمپنیوں نے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت جاری کر دی، حیرت انگیز قدم اٹھا لیاگیا

datetime 5  مارچ‬‮  2020 |

ابوظہبی (این این آئی) کرونا وائرس کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خلیجی ممالک کی کاروباری کمپنیوں نے ایک نیا ورک پلان تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک تہائی کمپنیوں کے مینجرز اور دیگر ملازمین دفافتر اور ورکنگ سائٹس کے بجائے اپنے گھروں میں رہ کام کریں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ خلیج میں کام کرنے والی کاروباری کمپنیوں کو اپنے کام کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔

ایک تہائی کمپنیوں کے منیجرز نے اپنے آدھے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے۔ اس پروگرام پر مجموعی طورپر 1600 خلیجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ کرونا کے باعث خلیج میں کام کرنے والی 35 فیصد کمپنیوں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔مہلک کرونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے 6 فیصد کے بارے میں ابھی گھر سے ہی کام کا منصوبہ شروع کردیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں مزید پانچ اور اس کے بعد مزید 12 فی صد ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی تاکید کی جائیگی۔سروے میں حصہ لینے والے 54 فی صد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ ان کا ابھی تک دور سے کام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ ان کی 11 فیصد کمپنیوں کا کہنا تھا کہ وہ یقینی طور پر ملازمین کے گھر سے کام کرنے کے امکان پر غور نہیں کریں گی۔خطے کے ممالک میں بحرین میں 38 فیصد کمپنیوں میں ریموٹ ایکشن پلان کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں 37 فی صد کمپنیوں کا کہناتھا کہ وہ ملازمین کو کچھ عرصے کے لیے گھر سے کام کرنے پر زور دیں گی۔ تیس فی صد کمپنیوں نے گھر سے کام کرنے کے منصوبوں کا اشارہ کیا جبکہ سلطنت عمان کی 18 فی صد کمپنیوں نے ملازمین کو گھروں میں رکھنے کی حمایت کی ہے۔چونکہ خطے کی بیشتر کمپنیوں کے لیے ملازمین کا گھروں سے کام کرنا ایک نیا تصور ہے۔ اس سروے میں پتا چلا ہے کہ ان میں سے بیشتر ملازمین کو گھروں میں تعینات کی تنظیمی اور تکنیکی پہلوئوں سے تیاری کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ملٹی نیشنلز کمپنیوں نے سروے کیا جس میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد گھروں سے کام کرنے پر رضامند دکھائی دیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…