منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

افغان عوام کیلئے یہ ایک تاریخی دن ہے،اٹھارہ سال کی طویل خون ریزی کے بعد جنگ بندی خوشی کا پیغام ہے،اسفند یار ولی خان کا خصوصی پیغام

datetime 29  فروری‬‮  2020 |

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان قطر میں معاہدے پر دستخط ہونے پر افغان عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نقطہ آغاز ہے، امید ہے اس معاہدے کے بعد افغانستان کی سرزمین پر جاری طویل جنگ کا خاتمہ ہوجائیگا۔ ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے کہا ہے کہ افغان عوام کیلئے یہ ایک تاریخ دن ہے،

اٹھارہ سال کی طویل خون ریزی کے بعد جنگ بندی اور امن کی جانب ایک مثبت قدم پورے خطے اور بالخصوص افغان عوام کیلئے خوشی کا پیغام ہے کیونکہ اس دن کیلئے افغان عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، لاکھوں افغان مہاجرین بے گھر ہوئے، ہزاروں نے جانوں کی قربانیاں دی اور آج نئی نسل کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ پرامن افغانستان اب خواب نہیں حقیقت بن چکا ہے۔ امن معاہدے کے بارے میں اے این پی کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں پر پابندی خوش آئند اقدام ہے، امن معاہدے سے افغانستان اور پورے خطے کے مستقبل کو پرامن بنایا جاسکتا ہے جس کے لئے پاکستان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے بعد فریقین جنگ بندی کو مستقل شکل دینے کو یقینی بنائیں گے۔امن کی خاطر اب کسی بھی غلطی کی گنجائش موجود نہیں اور امید ہے کہ پہلے کی گئی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائیگا کیونکہ اگر اس بار پھر جنگ چھڑ گئی تو نقصانات انتہائی خطرناک ہوں گے۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان معاہدے کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات خوش آئند ہے کیونکہ ڈاکٹر اشرف غنی کی قیادت میں افغان عوام نے ایک جمہوری طریقے سے اپنے سربراہ کا انتخاب کرلیا ہے۔انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز اور اس معاہدے کیلئے مثبت کوششیں کرنیوالی تمام قوتوں کو مبارکبا ددیتے ہوئے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ پاکستان کے پارلیمانی قرارداد کی روشنی میں ”افغان لِڈ، افغان اونڈ“ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور آج افغان حکومت کو طالبان کے ساتھ ایک میزپر بٹھانے سے ہی افغانستان کے مستقبل کو پرامن بنایا جاسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…