منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

حکومت کے کرپشن کیخلاف اقدامات کے باوجود کرپشن کا بازار گرم، سرکاری بینک میں کروڑوں کی کرپشن کا سکینڈل منظر عام پر آ گیا

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) نیشنل بینک آف پاکستان میں چالیس کروڑ روپے سے زائد کرپشن کا اسکینڈل منظر عام پر آ گیا۔ یہ اسکینڈل ایبٹ آباد ریجن کی دو برانچز بشمول خانس پور ایوبیہ برانچ اور خیراگلی برانچ میں سامنے آیا ہے۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق بینک کے مینجر اور کیشئیر کی ملی بھگت سے مذکورہ رقم میں خرد برد کی گئی۔

اس خرد برد کی تحقیقات کے لئے جانے والی تفتیشی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ خیرا گلی برانچ میں جانچ پڑتال کے لیے بینک میں کنیکٹویٹی اور سسٹمز ہی موجود نہیں تھے۔ اس کے علاوہ بینک کے کیشئیر نے بھی کسی قسم کی خرد برد کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ بینک کے اکاونٹ بیلنس میں 31 دسمبر 2019 کے بعد ایک دم اضافہ ہوا۔ اس حوالے سے جانچ پڑتال کے لیے کسی قسم کی بکس یا وواچر پیش نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خرد برد کی جانے والی رقم 24 کروڑ 54 لاکھ 27 ہزار سات سو سولہ روپے بنتی ہے۔ اس برانچ کی رپورٹ کے نتیجے میں لکھا گیا ہے کہ اس برانچ کے منیجر نے ایوبیہ گلی برانچ کے منیجر کے ساتھ مل کرخفیہ طور پر ایک دوسرے کی برانچز میں غیر قانونی اندراج کر کے ایک بھاری رقم خرد برد کی۔ دوسری جانب خانس پور، ایوبیہ برانچ کی پیش کی جانے والی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پچھلے دو ماہ سے مذکورہ برانچ کی کیش بک میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ برانچ کے کیش بیلنس میں اکتوبر 2019 کے بعد یک دم بھاری اضافہ ہوا۔ مزید بر آں دو شہریوں کے نام پر کسی چیک کے بغیر ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ اس برانچ میں ہونے والی خرد برد کی رقم 14 کروڑ 3 لاکھ سات سو پندرہ روپے بنتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…