اتوار‬‮ ، 08 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں اسمارٹ فونز اور پرزے نایاب ہونے کا خدشہ، انتہائی کم ذخائر رہ گئے، حیرت انگیز انکشاف

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستانی مارکیٹ میں چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء کی قلت ہونے لگی ہے کیونکہ کرونا وائرس کے باعث چین میں تاحال پروڈیکشن کا سلسلہ بحال نہیں ہوسکا۔پاکستان میں الیکٹرانکس درآمد کنندگان اس وقت انتہائی پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ چین میں نئے سال کی چھٹیوں کے بعد سے کاروباری حالات معمول پر نہیں آسکے۔ چین سے موبائل فون ہارڈ ویئر، اسکے لوازمات اور پرزے درآمد کیے جاتے ہیں۔

کراچی کی صدر موبائل مارکیٹ میں کام کرنے والے الیکٹرانکس اشیاء کے ایک بڑے درآمد کنندہ حامدولی کے مطابق ہم سپلائی کے ذخائر کے حوالے سے تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس صرف 10 فیصد ذخائر رہ گئے ہوں۔درآمدات کی غیریقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں قیمتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ موبائل فونز کی ایل سی ڈی جوکہ 900 سے 1000 روپے میں باآسانی دستیاب تھی اسوقت 1800 روپے میں بھی مشکل سے مل رہی ہے۔ابتک موبائل کے لوازمات کی قیمتوں میں 30 فیصد تک ریکارڈ اضافہ ہوا ہے تاہم فی الحال ایک ماہ کا اسٹاک باقی ہے۔نیو ایشیا انٹرنیشنل الیکٹرانک اینڈ ڈیجیٹل سٹی کے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ تاخیر تاجروں اور صارفین کی صحت اور زندگی کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلیے ہے۔درآمد کنندہ حامدولی کی طرح بیشتر ڈیلرز فکرمند ہیں کہ سپلائی 22 فروری سے بحال ہونی تھی جس سے دباؤ کم ہو جاتا۔ تاہم انہیں چین میں اپنے سپلائرز کی جانب سے یہ پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ سپلائی غیر معینہ مدت کیلیے تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔ایک اور درآمد کنندہ غلام مرتضی نے بتایا کہ انکے خیال میں اگر 6 مارچ تک بھی ہمیں سپلائی مل گئی تو یہ ہماری خوش قسمتی ہوگی۔غلام مرتضی ہر قسم کی درآمد میں سہولیات فراہم کرتے ہیں، جس میں کپڑے، زیورات اور الیکٹرانکس شامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کرونا وائرس کے خوف کی وجہ سے چین میں پیداواری یونٹس تاحال کھل نہیں سکے۔انہوں نے کہا کہ ایک فون برانڈ ایسا ہے جس کی پاکستان میں کھپت ہے وہ یہاں مکمل ختم ہوچکا ہے کیونکہ اسکے تمام اسمبلی یونٹس چین میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…