منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کیماڑی واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈاکٹر قرار عباسی نے بڑا سوال اٹھا دیا

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کیماڑی واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا، ایک میت آبائی گاؤں روانہ کردی گئی جبکہ دوسروں کی تدفین کردی گئی۔کراچی بندرگاہ سے جڑے رہائشی علاقے کیماڑی میں پراسرار گیس یا کیمیکل کی بو سے متاثر ہوکر جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا جن میں سے ایک میت آبائی گاؤں روانہ کردی گئی ہے جبکہ دیگر میتوں کو کراچی میں سپردخاک کیا گیا ہے۔

پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر قرار عباسی کے مطابق لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح یا سول اسپتال لایا جانا تھا مگر پیرکی دوپہرتک کوئی ایک لاش بھی سرکاری اسپتال نہیں لائی گئی، پانچوں لاشیں لواحقین نجی اسپتالوں سے گھر لے گئے۔ڈاکٹر قرار عباسی کے مطابق طویل علالت کے بعد اسپتال میں انتقال کرجانے والے افراد کا پوسٹمارٹم ضروری نہیں ہوتا لیکن کسی بھی اچانک واقعہ میں ابتدائی طبی امداد کے دوران مرجانے والوں کا پوسٹمارٹم ضروری ہوتا ہے۔کیماڑی جیسے پراسرار واقعہ جس کے کوئی ظاہری شواہد سامنے نہ آسکیں تو ایسے افراد کے مرنے کی وجہ پوسمارٹم یا کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ سے پتہ چل سکتی ہے، مگر ایسا نہیں کیا گیا، اس واقعہ میں ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران جاں بحق ہونے والی نماز بیگم کو کراچی میں ہی سپراد خاک کردیا گیا ہے۔جاں بحق ہونے والی خاتون مسرت یاسمین کی لاش لواحقین نجی اسپتال سے جاری ڈیتھ سرٹیفکٹ حاصل کرکے راولپنڈی لے گئے ہیں، جاں بحق نوجوان محمد احسن کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے پولیس افسر عمر فاروق کا صاحبزادہ ہے جو کیماڑی کی ڈاکس کالونی کا رہائشی اور اقرا یونیورسٹی میں بی سی ایس کا اسٹوڈنٹ تھا۔پولیس کے مطابق متوفیہ عظیم بیگم زوجہ منشی خان کے لواحقین نے مسان روڈ کا رہائشی پتہ درج کرایا تھا، عظیم بیگم کی لاش کتیانہ میمن اسپتال سے گھر لے جائی گئی تھی۔جیکسن پولیس کے مطابق تمام افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے بھر پور کوشش کی گئی مگر لواحقین مشتعل تھے اور پوسٹمارٹم کرانے سے منع کردیا۔پولیس کے مطابق نجی اسپتالوں کی انتظامیہ نے تمام افراد کے ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کئے ہیں، جن میں وجہ موت درج کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…