منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

راستے کیوں بند ہیں؟ پولیس نے انتظامیہ اور انتظامیہ نے فوج پر ساری بات ڈال دی،وزیر داخلہ نے احسان اللہ احسان کے فرار کی بھی تصدیق کر دی

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی خبر کی تصدیق کر تے ہوئے کہاہے کہ اس بارے ریاست باخبر ہے،اس پرکام ہورہا ہے، بہت جلد خوشخبری ملے گی،غیر قانون سوسائٹیوں کو بالکل ہی ختم کر دینا چاہیے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کی خبر کی تصدیق کر دی۔ انہوں نے کہاکہ اس سے متعلق ریاست باخبر ہے،

اس پر بہت کا کام ہو رہا ہے،آپ کو جلد خوش خبری ملے گی۔وزیر داخلہ نے کہاکہ ہم معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے کچھ پیسے خرچ نہیں کر رہے، ہر چیز کو پاکستان پینل کوڈ مین ڈال کر سوسائٹی نہیں چلتی۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں ایسا نظام نہیں آ سکتا کہ گھر میں ماں بیٹے کو مارے تو پولیس آ جائے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ ہمیں مورال سپورٹ معاشرے کی کرنی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ غیر قانون سوسائٹیوں کو بالکل ہی ختم کر دینا چاہئے،ان غیر قانونی سوسائٹیوں کا حقہ پانی بند کرنا چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ جن کی قانونی سوسائٹیاں ہیں ان کو گیس پانی بجلی ان غیر قانونی سوسائٹیوں کی وجہ سے نہیں مل رہے۔انہوں نے کہاکہ نئے ایئر پورٹ کے پاس جتنی سوسائٹیاں بنی ان کے ساتھ ساتھ کچی آبادیاں بھی بن رہی ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ پاسپورٹ تمام ضلعوں میں بنایا گیا ہے، مین نے بھی سفارش کی ہے کہ جس تحصیل کی آباد 10 لکھ سے زیادہ وہاں پاسپورٹ دفتر بنایا جائے۔وزیر داخلہ نے کہاکہ بنگلہ دیش کی ٹیم آئی تو میں گھر سے نکل نہیں سکا کیونکہ میریٹ میں ٹیم ٹھہری تھی۔ وزیرداخلہ نے کہاکہ میں نے تمام انتظامیہ کو بلایا کہ راستے کیوں بند ہیں؟وزیر داخلہ نے کہاکہ پولیس نے انتظامیہ اور انتظامیہ نے فوج پر ساری بات ڈال دی۔وزیر نے کہاکہ میں نے چیئر مین پی سی بی کو فون کر کے کہا کہ اب اگر کوئی ٹیم آئی اور میریٹ میں ٹھہرایا گیا تو کوئی سیکورٹی نہیں ملے گی۔وزیر داخلہ نے کہاکہ مجھے کہا گیا کہ پی ایس ایل کے تمام کھلاڑیوں کو سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیں۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ میں نے کہا بیرون ملک کھلاڑیوں کو تو دیں لیکن لوکل کھلاڑیوں کو کیوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…