جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی عدالت نے ملک میں اسلامی شادیوں کوغیر مستند قرار دیدیا

datetime 17  فروری‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)ایک برطانوی عدالت نے دو سال قبل ایک مسلمان جوڑے کے مقدمے کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کیونکہ ان کی شادی کی تقریب اسلامی رسومات کے تحت ہوئی اس لیے اب وہ قانونی طور پر طلاق کا حق بھی رکھتے ہیں۔ 2018 میں ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اس (مسلم) جوڑے کا اسلامی طور پر ہونے والا نکاح کا بندھن بھی ملکی قانون کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

تاہم اپیل کورٹ نے سرے سے نکاح کی اس تقریب کو ہی ’غیر مستند‘ اور غیر قانونی قرار دیدیا۔ججز نے واضح کیا کہ مروجہ ملکی قوانین کے ہوتے ہوئے مزید کسی عائلی تقریب کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔واضح رہے کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے 2018 کے فیصلے کو اپیل کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔یہ مقدمہ نسرین اختر اور محمد شہباز خان کی طلاق سے متعلق تھا جن کے اس شادی سے چار بچے بھی ہیں۔اس مسلم جوڑے نے 1998 میں نکاح ایک ریستوران میں ایک تقریب میں کیا جس میں ایک امام اور پچاس مہمان بھی شریک تھے۔ تاہم نسرین اختر کے اصرار کے باوجود اس کے بعد مزید کوئی تقریب منعقد نہیں ہوئی۔اس جوڑے کی 2016 میں علیحدگی ہو گئی جس کے بعد شہباز خان نے اپنی اہلیہ کی طلاق سے متعلق درخواست کو یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کی انھوں نے قانونی طور پر شادی نہیں کی تھی۔نسرین اختر نے کہا کہ ان کی اسلامی شادی اور طلاق کی درخواست مستند تھی اور انھیں وہی قانونی تحفظ ملنا چاہیے تھا جو برطانیہ میں دوسرے قانونی شادی شدہ جوڑوں کو ملتا ہے۔طلاق کے حوالے سے ان کی درخواست کا جائزہ ایک ہائی کورٹ کی فیملی ڈویڑن کے ایک مقدمے میں لیا گیا اور جسٹس ولیمز نے 2018 کے موسمِ گرما میں اس حوالے سے فیصلہ دیا۔

انھوں نے فیصلے میں لکھا کہ کیونکہ یہ جوڑا اپنے آپ کو میاں بیوی کہلواتا ہے اس لیے مسز اختر کی بات درست ہے اور ان کے رشتے کو تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ ان کے نکاح نامے میں وہی توقعات ہوتی ہیں جو برطانیہ میں شادی کے معاہدے میں ہوتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شادی 1973 کے میٹریمونیئل کازز ایکٹ کے دائرے میں آتا ہے باوجود اس کے کہ مسٹر خان کا مؤقف ہے کہ یہ شادی ’صرف شریعت کے قانون‘ کے تحت عمل میں آئی۔جسٹس ولیمز کا کہنا تھا کہ مسز اختر کے پاس اس شادی کو ختم کرنے کا حق حاصل ہے۔

تاہم کورٹ آف اپیل نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شادی برطانیہ میں شادی کے قوانین کے مطابق غیر مستند ہے۔اس فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ شادی ’غیر مستند‘ ہے کیونکہ یہ ایسی عمارت میں نہیں ہوئی جو شادیوں کے لیے مخصوص اور رجسٹرڈ شدہ ہو، کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں دیے گئے اور کوئی رجسٹرار بھی اس موقع پر موجود نہیں تھا۔اپیل کورٹ کے جج کے مطابق دونوں فریق برطانوی قانون کے مطابق شادی نہیں کر رہے تھے۔

مسز اختر اور مسٹر خان دونوں نے اپیل کی سماعت کے دوران حصہ نہیں لیا۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ساؤتھ ہال بلیک سسٹرز کی ڈائریکٹر پرگنا پٹیل نے کہا کہ آج کا فیصلہ مسلمان اور دیگر خواتین کو شریعت کورٹس کی جانب جانے پر مجبور کرے گا جو پہلے ہی خواتین اور بچوں کو خاطر خواہ نقصان پہنچاتے ہیں کیونکہ انھیں قانونی نظام سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ 2017 میں شریعت کے قانون پر حکومتی جائزے میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلمان جوڑوں کو مسلمان رسموں کے علاوہ اپنی شادیوں کو رجسٹر بھی کروانا ہو گا اسی صورت میں اسلامی شادی مسیحی اور یہودی شادیوں کی طرح قانونی طور پر جائز ہو سکے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…