جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ابھی تک ہم قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکے،ایران کا اعتراف،ساتھ ہی امریکہ کو خبر دار کردیا

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

میونخ (این این آئی)ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ان کا ملک عسکری ملیشیائوں کو نہیں بلکہ ان افراد کی مدد کرتا ہے جو تہران کی حمایت کرتے ہیں۔ میونخ میں منعقدہ عالمی سلامتی کانفرنس سے خطاب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج کے حملے میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کاانتقام پورا نہیں ہوا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بہت سے لوگوں نے اس کا انتقام لینے کا سوچا مگر ہم انہیں کنٹرول نہیں کرسکتے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ابھی تک ہم قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ نہیں لے سکے ہیں۔خیال رہے کہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کمانڈر قاسم سلیمانی کو دو اور تین جنوری کی درمیانی شب بغداد کے ہوائی اڈے کے قریب امریکا نے ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا۔جواد ظریف نے مزید کہا کہ امریکیوں نے قاسم سلیمانی کو قتل کیا اب وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک سلامتی کا مشن تھا۔ میں پوچھتا ہوںکہ قاسم سلیمانی سے کس کو خطرہ تھا اور کون اس قتل سے محفوظ ہوا ہے؟انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے موجودہ سیاسی نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا بلکہ امریکی 41 سال سے اس کوشش میں ہیں مگر ناکام ہیں۔جواد ظریف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوںکی وجہ سے ہم خطرناک ترین دور سے گذر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایران میں نظام کے سقوط کا انتظار کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ سلیمانی کے قتل کے بعد ایران گھٹنے ٹیک دے گا، مگر یہ اس کی خام خیالی ہے۔قبل ازیں جمعہ کے روز امریکی وزیر خارجہ نے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا ایران کی طرف سے یمن کے حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اس بات کاثبوت ہے کہ ایران مسلسل خطے میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکی بحریہ نے حال ہی میں ایران کی طرف سے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے بھیجے گئے 385 میزائل پکڑے ہیں۔ ایران کی طرف سے حوثیوں کو میزائلوںکی فراہمی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی توہین ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…