جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پاسداران انقلاب کی سوشل میڈیا کارکنوں کو سنگین نتائج کی دھمکی

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

تہران (این این آئی)ایران میں سوشل میڈیا پر قدغنیں کوئی نئی بات نہیں۔ آئے روز ایرانی عہدیداروں کی طرف سے سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے چیئرمین حسین طائب نے مظاہرین اور سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں کو خبردار کیا ہے وہ حکومت اور ایرانی ولایت فقیہ کے نظام کے

خلاف کسی قسم کی مہم چلانے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔حسین طائب نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ مغربی ایجنٹوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ان کی ہر حرکت پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ ملک میں اتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے تو انہیں سیکیورٹی اداروں کی طرف سے کاری ضرب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے دھمکی دی کہ ہم سوشل میڈیا پر ملک کے خلاف انتشار پھیلانے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کے جدید آلات ہیں۔ سوشل میڈیا کے میدان کو ایران کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے والوں کو اپنی حرکتوں کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار حسین طائب کی طرف سے یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں? سامنے آیا ہے جب گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی انٹیلی جنس حکام نے گھروں پر چھاپوں کے دوران 10 صحافیوں کو حراست میں لینے کے ساتھ ان کے کمپیوٹر، لیپٹ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر آلات قبضے میں لیے لیے تھے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…