جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

مسلم دشمنی میں بھارت کا ایک اور اقدام برقعے پر پابندی کا مطالبہ کر دیا گیا

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش کے وزیر راگو راج سنگھ نے کہا ہے کہ  بھارت میں برقعے پر پابندی لگائی جائے،دہشت گرد اپنی شناخت چھپانے کے لیے برقعے کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے وزیر راگو راج سنگھ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں برقع پہننے پر پابندی عائد کی جائے۔

بھارتی وزیر گوراج سنگھ نے اپنے مطالبے میں یہ الزام بھی لگایا کہ  دہشت گرد اپنی شناخت چھپانے کے لیے برقعے کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ دہشت گرد برقع پہن کر باآسانی ہمارے ملک میں گھس سکتے ہیں اور بھارت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اِس لیے میں ایک بار پھر مودی سرکار سے اپیل کروں گا کہ بھارت میں برقع پہننے پر پابندی عائد کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح گذشتہ سال سری لنکا میں برقع پہننے پر پابندی عائد کی گئی تھی اِسی طرح بھارت میں بھی برقع پہننے پر پابندی لگانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ برقع پہننے کا نظام عرب ممالک سے آیا ہے اور میں بھارتی شہریوں سے کہتا ہوں کہ متحد ہوجائیں اور برقع پر پابندی لگانے پر آواز اٹھائیں تاکہ ہمارا بھارت دہشت گردوں سے محفوظ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…