جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایرانی سپریم لیڈر اور وزیر خارجہ کو ٹویٹر سے ہٹانے کی امریکی مہم ،ٹوئیٹرانتظامیہ کو خط لکھ کر کیا مطالبہ کردیا گیا؟

datetime 8  فروری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی کانگرس نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی ٹویٹر سرگرمیاں بند کرانے کے لیے ان کے اکائونٹس بلاک کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رْکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ٹویٹر کے سی ای او جیکس ڈورسی کو ایک مراسلہ ارسال کیا جس میں کمپنی سے مطالبہ کیا گیا کہ

وہ ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں بہ شمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے اکائونٹس بلاک کرے۔ یہ دونوں شخصیات امریکا کی ایران کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اس کی حمایت کی ہے جب کہ سینیٹر ٹام کاٹن، مارشا بلیک برن اور مارکو روبیو بھی ایرانی لیڈروں کے ٹویٹر اکائونٹ بلاک کرنے کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔مکتوب میں سینیٹرز نے لکھا کہ اوبامہ انتظامیہ نے انٹرنیٹ پر مبنی مواصلات میں پروگرامنگ خدمات کے لیے ایک استثنا دیا تھا۔ اس استثنٰی میں انسٹنٹ میسجنگ، چیٹنگ، ای میل اور سوشل نیٹ ورک “شامل ہیں۔ ایرانی حکومت کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے ٹویٹر کے ذریعے اپنے پروپیگنڈے کو پھیلانے کی اجازت دی گئی۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ یہ نظام اپنے لوگوں کو ایسے پلیٹ فارم تک رسائی کی اجازت نہیں دیتا مگر ایرانی عہدیدار ان فورمز کو کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔ ٹویٹر کو امریکیوں کے سیاسی گفتگو پر سنسرشپ نہیں لگانی چاہئے۔ جہاں تک ایرانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا تعلق ہے تو وہ اس ملک کی نمائندگی کرتے ہیں جو پوری دنیا میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای سیکڑوں امریکی شہریوں کے قتل کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ اگر امریکی حکومت کی طرف سے خامنہ ای پرپابندی عاید ہے تو ہر امریکی کمپنی کو بھی اس پابندی کو نافذ کرنا چاہیے۔مکتوب کے بارے میں وائٹ ہاؤس کو مطلع کیا گیا۔ اس کی ایک نقل صدر ٹرمپ، وزیر دفاع اسٹیفن منوچن اور اٹارنی جنرل کو بھی ارسال کی گئی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…