جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ترکی کا لیبیا میں لڑنے کے لیے 4700 شامیوں کو بھرتی کرنے کا انکشاف

datetime 2  فروری‬‮  2020 |

دمشق (این این آئی)شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں لڑائی میں شرکت کے لیے بھیجے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 2900 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ 1800 سے

زیادہ دیگر اجرتی جنگجو تربیت حاصل کرنے کے لیے ترکی کے عسکری کیمپوں میں پہنچے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق المرصد نے بتایاکہ طرابلس میں عسکری کارروائیوں میں مارے جانے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کی تعداد 72 ہو چکی ہے۔مذکورہ جنگجو طرابلس کے جنوب میں صلاح الدین اور طرابلس ہوائی اڈے کے نزدیک الرملہ کے علاقوں کے علاوہ الہضبہ پروجیکٹ کے مقام پر جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے۔اسی طرح المرصد نے یہ تصدیق بھی کی کہ ترکی کی جانب سے منتقل کیے جانے والی شامی جنگجؤوں میں سے 64 افراد لیبیا کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد یورپ روانہ ہو گئے۔المرصد نے باور کرایاکہ طرابلس جانے کے خواہش مند شامیوں کے ناموں کے اندراج کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں عفرین اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں ہو رہی ہیں۔المرصد کے مطابق ایسے وقت میں جب کہ بشار حکومت کی فورسز روس کی سپورٹ سے حلب اور ادلب میں فوجی کارروائیاں کر رہی ہیں،،، شامی اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا منتقلی نے بڑے پیمانے پر عوام کا غصہ اور ناراضی بھڑکا دی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…