بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سرکاری گھروں کی خلاف قانون الاٹمنٹ سپریم کورٹ نے زبردست حکم جاری کردیا

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے سرکاری گھروں کی خلاف قانون الاٹمنٹ پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دور ان سرکاری گھروں میں رہائش پذیر افسران کی تفصیلات طلب کر تے ہوئے کہاہے کہ اسلام آباد کے کتنے سرکاری گھروں پر قبضہ ہے، آگاہ کیا جائے، سرکاری گھر کرائے پر دینے والے افسران کیخلاف کریمنل کارروائی کریں ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب تک فراڈ کرنے والے پچاس لوگ فارغ نہ کیے جائیں تو بہتری نہیں آئے گی، اسی فیصد افسران نے سرکاری گھر کرائے پر دے رکھے ہیں، افسران نے اپنے گھر بنا لیے لیکن سرکاری گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری گھروں پر زبردستی قابض افسران بے ایمان ہیں، کیا سرکاری گھر کرائے پر دینے والے افسران نوکری پر رہنے کے قابل ہیں؟ ۔چیف جسٹس نے سیکرٹری ہائوسنگ سے مکالمہ کیاکہ سرکاری افسران کو گھر دینا ہی بند کر دیں۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے کہاکہ سرکاری گھروں کے حوالے سے کام کر رہے ہیں، سرکاری گھروں کی کل تعداد 28 ہزار ہے۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے کہاکہ اسلام آباد میں 17ہزار آٹھ سو سرکاری گھر ہیں، اسلام آباد کے 1517 سرکاری گھروں کا قبضہ واگزار کرا لیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ قبضہ کرنے والے افسران کیخلاف کیا کارروائی ہو رہی ہے؟ سرکاری افسران کیخلاف آپکی کارروائی کا بھی الٹا ہی نتیجہ نکل رہا۔مزید سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…