بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہم لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے یا انہیں ہراساں کئے بغیر یہ کام کریں گے، حفیظ شیخ نے حیران کن طریقہ بتا دیا

datetime 26  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ ہمیں لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے یا انہیں ہراساں کیے بغیر محصولات بڑھانے ہوں گے، حکومت کے بنیادی مقاصد میں معیشت کی ترقی اور عالمی تجارت بڑھانا ہے، برآمدات میں اضافے اور درآمدات کے لیے کسٹم کا کردار اہم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکو کسٹم کے عالمی دن کے موقع پر کسٹم ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

عبدالحفیظ شیخ  نے کہاکہ کسٹم ریونیو کے حصول اور تجارت کے فروغ کا اہم ذریعہ ہے، پاکستان کسٹمز ملک کی معاشی سرحدوں کا نگران ہے، حکومت تمام سرکاری اداروں کی طرح کسٹم کو بھی وسائل سے لیس کرے گی۔کسٹم کی کارکردگی قابل ستائش اور پاکستانی معیشت میں کردار اہم ہے۔کسٹم پاکستان کا چہرہ ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے پاکستان کیسا ہے۔عبد الحفیظ شیخ نے کہاکہ غیر ملکی اور اوور سیز پاکستانیوں کو ملک آمد پر بہترین سہولتیں دینا ضروری ہے، کسٹم حکام کو اس ذمے داری کو پورا کرنے اور ادارے کا تاثر بہتر بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ  اوور سیز پاکستانی آمد پر خوش اسلوبی سے کسٹم سے گزرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بنیادی مقاصد میں معیشت کی ترقی اور عالمی تجارت بڑھانا ہے، برآمدات میں اضافے اور درآمدات کے لیے کسٹم کا کردار اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جدید اصولوں کے مطابق خدمات کو بہتر بنانا ہے، گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان آنے والوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔مشیر خزانہ نے کہاکہ قومی اہداف پورے کرنے کے لیے کسٹم کا کردار اہمیت کا حامل ہے، لوگ کسٹم سے متعلق پریشانی نہیں چاہتے۔انہوں نے کہاکہ اکیسویں صدی کا تقاضا زندگی کو آسان بنانا ہے، غیرملکی اور اوورسیز پاکستانیوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے، ہمیں لوگوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے یا انہیں ہراساں کیے بغیر محصولات بڑھانے ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…