بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد کہاں تک جا پہنچی؟اعداد و شمار جاری

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)پاکستان میں 2019-20 کے اعدادو شمار کے مطابق 11 کروڑ 21 لاکھ4ہزار 518 ووٹرز ہیں جن میں 6 کروڑ 23لاکھ96 ہزار149 مرد جبکہ 4 کروڑ 97 لاکھ8 ہزار369 خواتین ووٹرز ہیں ۔ملک بھر میں 23 ہزا ر 413 ڈسپلے سینٹر قائم کئے گئے ہیں جہاں پر ووٹ کی درستگی ،اندراج اور غلط ووٹ کے اندراج کو خارج کرانے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔آن لائن کے پاس

دستاویزات کے مطابق 2019-20 کے اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر میں56 فیصد مرد ووٹر جبکہ 44فیصد خواتین ووٹرز درج ہیں ،سب سے زیادہ خواتین ووٹرز وفاقی دارالحکومت میں اندراج ہے ۔اسلام آباد میں کل ووٹرز کی تعداد 8 لاکھ 3538 ہیں ان میں 4لاکھ22 ہزار 645 مرد جبکہ3 لاکھ 80 ہزار 893 خواتین ووٹرز ہیں جس کا مجموعی تناسب مرد53 فیصد جبکہ خواتین 47فیصد ہیں۔پنجاب میں کل ووٹرز کی تعداد6 کروڑ43 لاکھ52 ہزار 953 ہیں جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد3 کروڑ 55 لاکھ 43 ہزار819 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد2 کروڑ 88 لاکھ9134 ہے جس کا مجموعی تناسب 55 فیصد مرد اور45 فیصد خواتین ہیں ۔سندھ میں کل ووٹرز کی تعداد 2 کروڑ 33 لاکھ 61 ہزار 581 ہے جن میں ایک کروڑ29 لاکھ 43 ہزار 998 مرد ووٹرز ہیں جبکہ ایک کروڑ4 لاکھ 17 ہزار 583 خواتین ووٹرز ہیں ۔سندھ میں بھی پنجاب کی طرح مجموعی تناسب 55 فیصد مرد اور45 فیصد خواتین ہیں ۔خیبر پختونخواہ میں کل ووٹرز کی تعداد ایک کروڑ 89 لاکھ 50 ہزار 900 ووٹر ہیں جن میں ایک کروڑ 8 لاکھ 17 ہزار921 مرد ووٹرز ہیں جبکہ 81 لاکھ32 ہزار979 خواتین ووٹرز درج ہیں ۔خیبر پختونخواہ میں57 فیصد جبکہ 43 فیصد خواتین ووٹر ہیں ۔بلوچستان میں کل 46 لاکھ 35 ہزار 546 ووٹرز ہیں جن میں26 لاکھ 67 ہزار 766 مرد ووٹرز ہیں اور 19 لاکھ 67 ہزار 780 خواتین ووٹرز کی تعداد ہیں جن کا مجموعی تناسب 58 فیصد مرد جبکہ42 فیصد خواتین ہیں۔ملک بھر میں 23 ہزار413 ڈسپلے سینٹر قائم کئے گئے ہیں جن میں وفاقی دارالحکومت میں189 ،پنجاب میں11 ہزار856 ،سندھ میں 3 ہزار791 ،خیبر پختونخواہ میں5 ہزار912 ،بلوچستان میں ایک ہزار665 ڈسپلے سینٹر قائم کئے گئے ہیں جہاں ووٹرز کا اندراج،کوائف کی درستگی ،شناختی کارڈ مستقل یا موجودہ پتہ کے حساب سے ووٹ کی تبدیلی ،ووٹ پر اعتراضات اور دیگر مسائل حل کئے جاتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…