بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں تلور کے شکار کیلئے دبئی کے شاہی خاندان کو اجازت نامہ جاری ، 10 دن میں شکار کیے جانے والے پرندوں کی حد بھی مقرر

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت نے دبئی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی امور کے ذمے دار کو 20-2019 کے شکار کے موسم میں تلور کے شکار کے لیے اجازت نامہ جاری کردیا ہے۔

وزارت کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز کی جانب سے جاری کردہ یہ خصوصی اجازت اسلام آباد میں قائم متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کو بھیج دیے گئے ہیں تاکہ اسے آگے شکاریوں تک بھیجا جا سکے۔عدیل پرویز نے اجازت نامے میں تحریر کیا کہ ہم یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں کہ 20-2019 کے شکار کے موسم میں تلور کے شکار دبئی کے شاہی خاندان کے رکن اور دبئی کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول اینڈ جنرل سیکیورٹی میجر جنرل شیخ احمد بن راشد المکتوم کے لیے حکومت پاکستان نے صوبے میں ضلع عمرکوٹ کی انتظامیہ کو زمین کی فراہم کے لیے تجاویز بھیج دی ہیں۔انہوں نے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارت خارجہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے سے خصوصی تعلقات کا اعادہ کرتی ہے۔ایک اور اجازت نامے میں عدیل پرویز نے کہا کہ 20-2019 کے شکار کے سیزن میں تلور کے شکار کے لیے شیخ راشد بن خلیفہ المکتوم کو ضلع بدین وار جنگ شاہی اور ٹھٹہ میں دھابیجی میں زمین فراہم کی گئی ہے۔اجازت نامے کے ساتھ جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق کے مطابق شکار کے سیزن کے دوران 10 دن میں شکار کیے جانے والے پرندوں کی حد 100مقرر کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…