جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کشمیریوں کو قتل کرنے کیلئے کونسے خوفناک منصوبے کا اعلان کر دیا ، نوجوانو ں کو گرفتار کر کے ان کیساتھ کیا کیا جائے ؟ ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں 

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

سرینگر (این این آئی) بھارت نے کشمیری نوجوانوں کوفاقہ کشی کا شکار بنانے ،ان پر تشدد اور انہیں قتل کرنے کے لئے نازی طرز کے حراستی مراکز بنانے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق منصوبے کا واضح اشارہ سابق جنگجو بھارتی آرمی چیف اور موجودہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے نئی دہلی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا ۔ انہوں نے کہا کہ

کشمیری نوجوانوں میں انتہا پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے جن کی نشاندہی کرکے انہیں ان کیمپس میں ڈالا جائے گاجہاں ان کی انتہا پسندی ختم کی جائے۔ راوت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پیلٹ گنوں کی وجہ سے ہونے والی چوٹوں کے لئے بھارتی فورسز کو مورد الزام نہیں ٹھہرایاجاسکتا اور انتہا پسند پتھراؤ باز پیلٹ گنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔بپن راوت نے مقبوضہ کشمیر میں آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے علاقے میں ریاستی دہشت گردی بڑھانے کے بھارتی منصوبے کی نشاندہی کی۔کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ بھارت انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کو ختم کرنے کے نام پر نئے مراکز بنائے گا جو دراصل تشدد کے نئے سینٹر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ان سینٹروں میں نوجوانوں کو ٹارچر کیا جائے گا اور انکی نسل کشی کی جائے گی اور یہ مراکز نازی طرز کے حراستی کیمپ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ کہ جنرل بپن راوت کاانتباہ تنازعہ کشمیر کے بارے میں بھارتی فوجی طرز عمل کا عکاس ہے جسکا مقصد کشمیری نوجوانوں کو اپنی جدوجہد سے باز رکھنا ہے۔آزادی پسند تنظیموں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے اور انہیں جموں وکشمیر اپنے غیر قانونی قبضے کو قبول کرنے کیلئے تشدد سمیت تمام وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ،

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے مقبوضہ علاقے میں تشدد کے ہزاروں واقعات کی دستاویزات تیار کی ہیں۔ آزادی پسند تنظیموں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں تشدد کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرکے انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی 1989 سے اب تک 95ہزار سے

زائد بے گناہ کشمیریوں کے قتل کے باوجود بھارتی فوج کشمیری بھارتی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے کشمیری عوام کے عزم کو متزلزل کرنے میں کاکام رہی ہے۔آزادی پسند تنظیموں نے کہا کہ بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت ہر کشمیری کے خون اور روح میں ہے اور نئی دہلی کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ کشمیریوں کے

آزادی کے جذبے کو فوجی ذرائع سے دبایا نہیں جاسکتا ہے اور وہ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی جاری تحریک آزادی کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔آزادی پسند تنظیموں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…