بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

نادرا کا ملازم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ڈیٹا انٹری کی ڈیوٹی کرنے والا کروڑ پتی بن گیا ، یہ خواتین کے کارڈوں سے پیسے کیسے نکلواتا رہا ؟

datetime 17  جنوری‬‮  2020 |

شیخوپورہ(این این آئی)بینظیر انکم سپورٹ سے مستفید ہونے والا نادرا کا ملازم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ڈیٹا انٹری کی ڈیوٹی کرنے والا بھی غریبوں کی رقم ہڑپ کرکے کروڑ پتی بن گیا جائیداد بھی آمدنی سے زیادہ کارروائی کے لیئے متاثرین کی دی گئی درخواستیں بھی سرخ فیتے کی نذر ہو کر رہ گئیں تفصیلات کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں غریبوں کا حق لوٹنے والوں میں

ننکانہ نادرا آفس کا ملازم چاند رمضان مانانوالہ کے نواحی گاؤں پنواں کا رہائشی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آفس شیخوپورہ میں ڈیٹا انٹری کی ڈیوٹی پر مامور تھا کہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے بغیر نہ رہ سکااورغریب خواتین کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڑ مستحقین کو دینے کی بجائے خود ہی پاس رکھ کر بھاری رقوم نکلواتا رہا اور آمدنی سے زیادہ جائیداد بنانے اور کروڑ پتی بننے کا انکشاف ہوا ہے مانانوالہ کے گاؤں قبر والی کی رہاشی بیوہ خاتون منظوراں بی بی نے متعدد بار اعلی احکام کو درخواستیں گزار کی کہ مذکورہ ملازم میرا بنوا کر مجھے دینے کی بجائے خود لاکھوں روپے نکلوا کر ہڑپ کر چکا ہے اور بھی سیکڑوں خواتین کے کارڑوں پر پیسے نکلوا کر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنا چکا ہے محکمہ کو کارروائی کے لیئے دی گئی درخواستیں بھی سرخ فیتے کی نزر ہو کر رہ گئی ہیں متاثرہ خاتون نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے داد رسی کا مطالبہ کیا ہے-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…