منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تمام زندگی خوف کے سائے میں،ایسا بھی ہوتا ہے یقین نہیں آیا تو کلک کریں

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

دوہا۔۔۔۔قطر پر سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حصول میں بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے والی خاتون فیدرہ الماجد کا کہنا ہے کہ ان کی بقیہ زندگی خوف کے سائے میں گزرے گی۔
فٹبال کی نگران عالمی تنظیم فیفا کے غیرجانبدار تفتیش کار نے دو سالہ تحقیقات کے بعد حال ہی میں اپنی رپورٹ میں قطر کو ان الزامات سے بری کر دیا ہے۔فیدرہ الماجد نے ان تحقیقات کے دوران اپنے الزامات کو دوہرایا تھا اور پھر 2011 میں یہ الزامات واپس لے لیے تھے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کی وجہ سے انھیں ’خوف اور دھمکیوں کے نئے دور‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
قطری حکام نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’ان افراد کے اعمال پر لگنے والے الزامات تحقیقات اور جائزے کے بعد مسترد کر دیے گئے۔‘فیدرہ نے کہا تھا کہ قطری حکام نے فیفا کے تین ارکان کو ووٹ لینے کے لیے رشوت دی تاہم بعد میں انھوں نے بیانِ حلفی میں ان الزامات کو جھوٹ قرار دیا تھا۔اب فیدرہ کا کہنا ہے کہ ان پر اپنا بیان تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ’جب قطری حکام نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں اکیلی تھی۔ میرا کوئی وکیل نہیں تھا۔ میں اکیلے دو بچے پالتی ہوں جن میں سے ایک معذور ہے۔‘ان کے مطابق ستمبر 2011 میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے حکام نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا۔’انھوں نے مجھ سے قطر کی بولی کے طریق کار کے علاوہ ان دھمکیوں کے بارے میں بھی پوچھا جو مجھے قطریوں نے دی تھیں۔‘فیدرہ الماجد کے مطابق وہ فیفا میں ’چیزیں مخفی رکھنے کے چلن‘ سے نالاں تھیں اور انھوں نے تمام معلومات گارسیا کو دیں جب وہ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ مقابلوں کی بولی کے معاملات میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کر رہے تھے۔تاہم رواں برس 13 نومبر کو اس 430 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے خلاصے میں جج ہانس جوئچم ایکرٹ نے کہا ہے کہ فیدرہ کے ثبوتوں میں تسلسل نہیں تھا جس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔ان کے مطابق فیدرہ کے برعکس قطری حکام نے ان تحقیقات کے دوران ’مکمل اور اہم‘ مدد کی۔خیال رہے کہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی قطر کو دینے کا فیصلہ 2010 میں ہوا تھا اور اس عمل کے دوران اس نے آسٹریلیا، امریکہ ، جنوبی کوریا اور جاپان کو شکست دی تھی۔قطر کے انتخاب کو حیرانی کی نظر سے دیکھا گیا تھا اور بعدازاں اس سارے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…