ان دنوں یورپی یونین میں شامل ممالک بحریہ روم کے راستے یورپ کی طرف پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کا بوجھ بانٹنے کے مسئلے پر گہری تقسیم کا شکار نظر آ رہے ہیں۔یورپی سرحدی حدود میں داخل ہونے والے ہزاروں پناہ گزینوں کا بوجھ کون سا یورپی ملک کس حد تک اٹھائے گا ؟ اس متنازعہ مسئلے پر منگل کو لگسمبرگ میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے ایک ہنگامی اجلاس کا اختتام کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ہی ہوا، نیز ان مذاکرات میں فرانس اور اٹلی کے مابین پناہ گزینوں کے مسائل کے تناظر میں تلخی اور مزید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
فرانس اور اٹلی کی چپقلش
یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا، جب اسی روز اٹلی کی فرانس سے ملحقہ سرحد پر واقع علاقے ونیتیمیگلیا میں افریقہ سے آئے ہوئے درجنوں پناہ گزینوں کے کیمپوں کو پولیس نے جبری طور پر خالی کروا دیا۔ یہ پناہ گزین عارضی طور پر اس علاقے میں پڑاو ڈالے ہوئے تھے اور پناہ کی تلاش میں اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے شمال کی جانب بڑھنا چاہتے تھے۔ ان میں سے چند پناہ گزینوں نے پولیس کی کارروائی کے خلاف سخت احتجاج کیا اور وہ سائن بورڈز یا رہنمائی کے لیے لکھے ہوئے بورڈز یا کھمبوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے کھڑے رہے جبکہ دیگر پناہ گزینوں کو پولیس بازوں یا ٹانگوں سے پکڑ کر کھینچ رہی تھی۔ ” ہم انسان ہیں، جانور نہیں“۔ یہ کہنا تھا ایک سوڈانی پناہ گزین صدام کا۔ وہ پولیس آپریشن کا مشاہدہ کر رہا تھا اور
اپنا بیان دیتے وقت اس نے محض اپنا پہلا نام بتایا۔ صدام نے مزید کہا،” مجھے معلوم ہے کہ ہم سیاہ فام ہیں اور افریقہ سے آئے ہیں تاہم ہم بھی انسان ہیں“۔اس تشدد آمیز اور دلخراش منظر سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اطالوی حکومت اپنے اس موقف پر ڈٹی ہوئی ہے کہ تارکین وطن کا بوجھ یورپ کے دیگر ممالک کو بھی اٹھانا چاہیے۔منگل کو رونما ہونے والے اس واقعے کی ذمہ داری فرانس اور اٹلی ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ اطالوی وزیر داخلہ انجیلینو آلفانو نے ایک بیان میں ونیتیمیگلیا کے منظر کے بارے میں کہا،” یہ ا±ن سب کی آنکھوں پر ایک زوردار مکہ تھا جو دیکھنے سے انکار کر رہے ہیں“۔ ادھر ان کے فرانسیسی ہم منصب برنار کاس نوو¿ نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ فرانس نے ونیتیمیگلیا سے متصل اپنی سرحد بند کر دی ہے۔ لگسمبرگ میں ہونے والے اجلاس میں فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا،” جب تارکین وطن اٹلی کے سرحدی علاقے میں ا±تریں گے تو ظاہر ہے کہ انہیں اٹلی ہی میں واپس جانا ہوگا“۔
نقطہء نظر کا اختلاف
بحیرہ روم کے راستے یورپ کی طرف بڑھتا ہوا پناہ گزینوں کا سیلاب محض اٹلی اور فرانس ہی کے لیے پریشانی کا سبب نہیں بنا ہوا ہے بلکہ یورپ کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ رواں برس قریب ایک لاکھ تارکین وطن یورپ پہنچے ہیں جبکہ اس بر اعظم تک پہنچنے کی تمنا لیے کٹھن مسافت طے کرنے کی کوشش کے دوران دم توڑ دینے والے اور لاپتہ ہوجانے والے پناہ گزینوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔رواں برس جون اور ستمبر کے درمیانی عرصے میں مزید پناہ گزینوں کی یونان اور اٹلی کی طرف آمد متوقع ہے۔ اس تناظر میں منگل کو لگسمبرگ میں ہونے والے پورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں اس موضوع پر بحث ہوئی کہ اٹلی اور یونان آنے والے چالیس ہزار پناہ گزینوں کو 28 رکنی بلاک میں کس طرح تقسیم کیا جائے تاکہ دو جنوبی یورپی ممالک فرانس اور اٹلی پر ان کا بوجھ کم ہو سکے۔ اس اجلاس کے بارے میں لٹویا کے وزیر داخلہ ریہارڈس کوزلوفسکس نے کہا،” پناہ گزینوں کے بٹوارے کے موضوع پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس بارے میں اب تک کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے کہ آیا یورپی یونین میں شامل ممالک کو لازمی طور پر پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانے میں شامل ہونا چاہیے یا اس معاملے کو رضا کارانہ ہی رہنے دیا جائے
“۔یاد رہے کہ لٹویا کے پاس اس وقت یورپی یونین کی ششماہی صدارت ہے۔ یورپی یونین کا آئندہ دو برسوں کے لیے شام اور اریٹیریا کے پناہ گزینوں کی منتقلی کا منصوبہ سیاسی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ اس پر یونین میں شامل ممالک شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ 28 رکنی یورپی اتحاد کے بمشکل 10 رکن ممالک اس اسکیم کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ جو اس کے حق میں ہیں ا±ن کا بھی مطالبہ یہ ہے کہ پناہ گزینوں کی تقسیم کے طریقہءکار میں تبدیلی لائی جائے۔ اس بارے میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے برلن میں کہا،” ہمیں معلوم ہے کہ یورپی یونین کے چند رکن ممالک پناہ گزینوں کی ذمہ داری کو لازمی قرار دیے جانے کی تجویز کی سخت مزاحمت کر رہے ہیں“۔ پناہ گزینوں کی یورپی یونین کے ممبر ممالک کے اندر منتقلی کے موضوع پر مزید بحث جولائی میں ہوگی۔





















































