جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

خودکشی کرنے والے ایس ایس پی میاں ابرار حسین کا لکھا گیا آخری نوٹ سامنے آگیا اہلیہ اور والدہ سے معافی مانگتے ہوئے خودکشی کرنے کی کیا دردناک وجہ بیان کر دی ؟

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) گذشتہ روز ایس ایس پی میاں ابرار حسین نیکوکارہ نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا ۔ سی پی او راولپنڈی نے بتایا ہے کہ جائے وقوعہ پر میاں ابرار کی لاش کے پاس سے ایک نوٹ ملا ہے ۔ مرحوم ایس ایس پی نے اپنی تحریر میں لکھا ہے کہ انسان خودکشی تب کرتا ہے جب وہ بیزار ہوتا ہے۔انہوں نے والدہ اور اہلیہ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص ان کی موت کا ذمہ دار نہیں ہے۔

قبل ازیں پنجاب پولیس کے ایس پی ابرار نیکو کارہ نے مبینہ طو رپر گھریلو ناچاقی پر خود کشی کرلی تھی، مرحوم پولیس ٹریننگ کالج روات میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات تھے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پولیس ٹریننگ کالج روات کے پرنسپل ایس پی ابرار نیکوکارہ نے خود کشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔ مرحوم گھریلو جھگڑوں کی وجہ سے پریشان تھے۔ایس پی ابرار نیکوکارہ کا تعلق چنیوٹ سے تھا۔ وہ سی ٹی او فیصل آباد سمیت مختلف عہدوں پر بھی تعینات رہے۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے موت کی دیگر وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔جبکہ دوسری جانب ایس ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ پرنسپل پولیس ٹریننگ سکول روات کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی گئی۔ترجمان پولیس کے مطابق نماز جنازہ میں آر پی او، سی پی اور سینئر پولیس افسران سمیت ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ،راولپنڈی پولیس کے چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق ایس ایس پی ابرار حسین نیکوکارہ کی میت مکمل اعزاز کے ساتھ تدفین کے لئے آبائی علاقہ کے لئے روانہ کیا گیا ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…