جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کے پی کے حکومت کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر خود سستے داموں آٹا فراہم کرنے کا فیصلہ، انتہائی اہم قدم اٹھا لیاگیا

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن)خیبرپختونخواحکومت نے انکشاف کیاہے کہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے پشاورمیں آج بروزمنگل 30سے35ٹرک مختلف پوائنٹس پر کھڑے ہونگے جہاں سے20کلوآٹے کی فی بوری800روپے پر دستیاب ہوگی۔صوبائی اسمبلی اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن سراج الدین کے سوال کاجواب دیتے ہوئے وزیرخوراک قلندرلودھی نے کہاکہ خیبرپختونخواکے فلورملوں کو روزانہ کی بنیاد پر چارہزار ٹن گندم فراہم کیاجارہاہے

جبکہ صوبے کی ضرورت دس ہزار ٹن ہے اوپن مارکیٹ میں 4700روپے ملنے والی گندم فلورملوں کو 3750روپے میں فراہم کی جارہی ہے تاہم اس کے باوجود عوام کو اگر سستاآٹافراہم نہیں ہورہاتوحکومت نے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون سے فیصلہ کیاہے کہ صوبہ بھرمیں آٹے سے بھرے ٹرک مختلف علاقوں میں کھڑے کئے جائینگے جو آٹھ سوروپے میں بیس کلوآٹے کاتھیلہ فراہم کرے گا جسکاآغازآج پشاورسے سے کیاجارہاہے،انہوں نے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی کی بات سے اتفاق کیاکہ خیبرپختونخوا کے آٹے کے مل سپرفائن آٹاتیارنہیں کرتے یہ پنجاب سے لایاجاتاہے ا سلئے اس کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاسکتی تاہم انہوں نے بتایاکہ خیبرپختونخوا میں اس وقت164فلورمل کام کررہے ہیں مزید فلورملوں کو کھولنے کیلئے مذاکرات کئے جارہے ہیں کوشش ہے کہ گندم کے کوٹے میں اضافہ ہوتوان فلورملوں کوبھی چالو کیاجائے گاانہوں نے کہاکہ آٹے کی بوری کی قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے ہدایات جاری کی ہیں آٹے کی افغانستان سمگلنگ نہیں ہورہی چیک پوسٹوں پر چیکنگ سخت ہے۔قبل ازیں سراج الحق نے بتایاکہ صوبے کے247میں سے100فلورملزبندہیں ان بندفلورملوں میں نوقبائلی اضلاع کے بھی ہیں حکومت اس متعلق کس طرح کے اقدامات اٹھارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…