جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ میں متعدد بل اور قراردادیں منظور، کون کون سے بل اور قراردادیں منظور ہوئیں، اجلاس کے دوران چیئرمین سینٹ اراکین پر برہم

datetime 13  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ میں نجی کارروائی کے دن متعدد بل اور قراردادیں منظور کرلی گئیں، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری پر ڈیڈلاک کی صورت میں معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکلز 213 اور 215 میں مزید ترمیم کا بل پیش کردیا جبکہ حکومتی مخالفت کے باوجود بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔

مسلم لیگ ن کے سینیٹر لیگی سینیٹر جنرل(ر) عبدالقیوم نے آئین کے آرٹیکل 213اور215 میں مزید ترمیم کا بل ایوان میں پیش جسے چئیرمین نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا، ایم کیو ایم کی سینیٹر خوش بخت شجاعت کی جانب سے دی پوسٹ آفس بل 2019ء پیش کیا جسے منظور کرلیا گیا۔ سینیٹر رانا مقبول نے معاشرتی ہم آہنگی بل دو ہزار انیس سینیٹ میں پیش کیا۔ وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے بل پر مزید مشاورت کرنے کا مشورہ دیاتاہم سینیٹ نے بل کی منظوری دے دی۔سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ر عبد القیوم نے الیکشن کمیشن سے متعلق آئین کے آرٹیکلز 213 اور 215 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔مجوزہ ترمیم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری پر ڈیڈلاک کی صورت میں معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد ہونا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن سے متعلق بل کی مخالفت کی گئی۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن ممبران اور چیف کی تقرری سے متعلق معاملہ پر ہم بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کی بجائے معاملہ پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے، اعظم سواتی کی مخالفت کے باوجود چیرمین سینیٹ نے آئین کے آرٹیکل 213 اور 215 میں مزید ترمیم کا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔سینیٹ میں دوتہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث چاروں ہائی کورٹس کے مزید بنچز بنانیسے متعلق سینیٹر جاوید عباسی کا تیارکردہ آئینی ترمیمی بل ایک بار پھر موخر کردیا گیا۔ چیرمین سینیٹ نے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد دوبارہ بل لانے کا اعلان کیا۔

سینیٹر سسی پلیجو نے دریائے سندھ پر سندھ بیراج کی تعمیر سے متعلق تحریک پیش کی۔ متعلقہ وزیر کی عدم حاضری کے باعث تحریک آئندہ ہفتے تک موخر کردی گئی-سینیٹر رحمان ملک نے کہا جب ڈالر مہنگا ہوگا تو باہر سے آئی اشیاء بھی مہنگی ہونگی، پرائس کنٹرول اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے۔سینٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ملک کا پہیہ چلنا ضروری ہے، لوگوں کو خودانحصار بنانے کی بجائے لنگر خانے کھولے جارہے ہیں، اعظم سواتی نے لنگر کھانے کھولنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لنگر ہماری تہذیب وتمدن کا حصہ ہے۔ لنگر خانوں پر حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہورہا۔

لنگر خانوں میں مخیر حضرات کی وجہ سے غریب آدمی تین وقت عزت سے روٹی کھاتا ہے،سینیٹ میں سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم اور سلطان قابوس کی وفات اور کوئٹہ دھماکے کے شہدا کے لیے پر فاتحہ خوانی کئی گئی۔ فخر الدین جی ابراہیم کے حوالے سے متفقہ طور پر تعزیتی قرارداد منظور بھی کی گئی۔سینیٹ میں ملک میں سی پیک منصوبوں پر عملدرامد کے حوالے سے سینیٹر سیمی ایزدی کی پیش کردہ قرارداد اور حکومت کی جانب سے ایچ ای سی کیبجٹ میں 10فیصد کٹوتی کیخلاف قرارداد بھی منظور کرلی گئی ایک موقع پر چیئرمین سینیٹ نے ارکان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ تمام لوگ خود چیئرمین بننا چاہتے ہیں، مجھے کام کرنے دیں آپ خاموش ہوکر بیٹھیں۔ سینیٹ کا اجلاس منگل کی شام تین بجے تک ملتوی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…