جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر اور نیب قانون میں ترمیم، تاجروں نے اس مقصد کو دھوکہ قرا ر دیدیا، حکومت کے خلاف بڑا اعلان کر دیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

راولپنڈی(آن لائن) راولپنڈی کی تاجر تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایف بی آر اور نیب کے قانون میں ترمیم اور تاجروں کو نیب قانون سے مبرا قرار دینے کا مقصد محض دھوکہ اور منظور نظر افراد کونوازناہے چھوٹے تاجروں کا اس قانون سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ علیم خان، میاں منشا، ملک ریاض اور جہانگیر ترین جیسے ٹائیکونز کے لئے راستہ ہموار کیا گیا ہے 15جنوری تک چھوٹے تاجروں کو 50ہزار روپے کی خریداری پر انکم ٹیکس فارم کو غیر فعال کیا گیا ہے

اس بارے تاحال کوئی قوائد و ضوابط یا قانون نہ تو وضح کیا گیا ہے نہ ہی اس پر کوئی توجہ دی جارہی ہے جبکہ کسٹم عملہ نے رات کی تاریکی میں تالے توڑ کر تجارتی مراکز سے سامان ضبط کر نا بند نہ کیا تو بھرپور مقابلہ کر یں گے چیئر مین ایف بی آر اور مشیر خزانہ ہمیں زندہ رہنے دیں ان خیالات کا اظہار سمال چیمبرز آف کامرس کے صدر ندیم شیخ، مرکزی صدر انجمن تاجران راولپنڈی شاہد غفور پراچہ،جنرل سیکریٹری انجمن تاجران باڑہ مارکیٹ اکبر خان، رہنما موتی بازار نوید کنول،، شرجیل میر،ساجد بٹ،شیخ محمد صدیق سمیت دیگر رہنماؤں نے”آن لائن“سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر سے تاجروں کو نکال دیا جائے تو ایف بی آر کیا کرے گی اس آرڈیننس کا سمال بزنس انڈسٹری سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ سمام انڈسٹری سے متعلق جو آرڈیننس آنا تھا وہ ابھی تک شاہد ارباب اختیار کے زیر غور ہی نہیں آسکا انھوں نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کے لئے فکس ٹیکس، ٹرون اوور ٹیکس میں کمی اور شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے جیسے اقدامات نہ کئے گئے تو آئندہ کا لائحہ عمل جلد تیار کریں گے کیونکہ اس کی وجہ سے تمام چھوٹے تاجر شدید متاثر ہوئے ہیں کاروبار ختم ہو کر رہ گیا ہے حکومت کو یہ احساس ہونا بہت ضروری ہے کہ تاجرملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ ہڈی توڑ کر معیشت زندہ نہیں رہ سکتی ایک طرف حکومت سمگلنگ روکنے میں بری طرح ناکام ہے دوسری طرف بازاروں میں غیر قانونی چھاپے مار کر گوداموں میں سے سامان ضبط کیا جا رہا ہے

تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ آج کے بعد اگر کسی بازار میں چھاپے مارے گئے تومقابلے پر مجبور ہوں گے اب تو حالات اس نہج پر آگئے ہیں کہ ہم اپنے کاروبار کانظام اور چابیاں خود آپکے حوالے کردیں انہوں نے کسٹم حکام کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ حکومت تبدیلی کے نعرے کے ساتھ تو آئی مگر عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکی پاکستان میں کاروبار کرنا آسان نہیں ہم ٹیکس دینے کے باوجود محفوظ نہیں ہر مشکل گھڑی میں فوج میڈیا اور تاجر کا اہم کردار ہوتا ہے تاکہ مشکل وقت سے نکلا جا سکے اختلافات کے باوجود ملک کو جب بھی ضرورت ہوئی ہم نے متحد ہو کر حکومت کا ساتھ دیا ساجد بٹ کا کہنا تھا کہ کسٹمزچھاپے ہماری عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہیں

ایف بی آر اور بڑے تاجر ملی بھگت سے چھوٹے تاجروں کو ہراساں کیا جارہا ہے امورٹڈ سے انوائس جی ڈی مانگی جائیں ہم ملکر کسٹمز چھاپوں کے خلاف مزاحمت کریں گے رات گئے تالے توڑ کر چھاپے مارنا درست اقدام نہیں ہمیں.بچوں کے لیئے رزق حلال کمانے دیں کسٹم والے اس طرح رات کو آتے ہیں جیسے چور اور ڈاکو آتے ہیں ہم ایسے کسی بھی اقدام کونہیں مانتے حکومت ایف بی آر اور کسٹم کولگام ڈالے کسٹم گردی بند کی جائے کاروباری مراکز پر جاری چھاپے بند کیئے جائیں انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کو پریشان کرنے کی بجائے باڈر مینجمنٹ سسٹم اور کسٹم نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دے اگرہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال پر مجبور ہونگے بازار میں ہماری تنظیمیں موجود ہیں جو ضلعی صوبائی اور ملکی سطح تک وسیع ہیں ملک گیر ہڑتالیں ہماری ہی کال پر بھرپور ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…