بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کانسٹیبل کاچاقو کے ذریعے ڈی آئی جی پر قاتلانہ حملہ وجہ کیا بنی؟پولیس ترجمان نے بتا دیا

datetime 12  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں کانسٹیبل نے چاقو سے حملہ کر کے ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کو زخمی کر دیا ، پولیس افسر کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ حملہ کرنے والے کانسٹیبل کو گرفتار کر لیا گیا جس کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے ۔

بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں واک کر رہے تھے کہ اس دوران کانسٹیبل محمد رفیق نے چاقو سے حملہ کر دیا۔ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے حملہ آورکو قابو کر لیا جبکہ زخمی ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کو فوری طو رپر سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کو طبی امداد دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔ تھانہ قلعہ گجر سنگھ پولیس نے حملہ آور ہونے والے کانسٹیبل محمد رفیق کے خلاف اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کی طرف سے کانسٹیبل رفیق پر ڈانٹ ڈپٹ کا تاثر قطعی طور پردرست نہیں۔کانسٹیبل رفیق کبھی بھی ڈی آئی جی شہزاد اسلم صدیقی کے ساتھ تعینات نہیں رہا۔کانسٹیبل رفیق کی پوسٹنگ حال ہی میںانوسٹی گیشن ونگ سے پولیس لائنز میں ہوئی۔کانسٹیبل رفیق مرگی کے مرض میں مبتلا ہے اور اپنا علاج کروا رہا ہے اوراپنی بیماری کی وجہ سے اکثر و بیشتر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہتا رہا ہے۔پولیس لائنز میں دوران پوسٹنگ بھی کانسٹیبل رفیق اپنا علاج کروا رہا تھا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…