میں نے 22 سال کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا‘میں ایک ماہانہ میگزین میں کام کرتا تھا‘ میرا پہلا باس بہت دل چسپ انسان تھا‘وہ ایڈیٹر تھا اور ہم تین نوجوان اس کے ماتحت تھے۔میں اپنے باس کے بہت قریب ہوتا تھا‘ وہ میرے ساتھ گپ بھی لگاتا تھا‘ چائے بھی پیتا تھا‘ فلمیں بھی دیکھتا تھا‘ واک بھی کرتا تھا‘ کھانا بھی کھاتا تھا اور اکثر اوقات رات کے وقت میرے کمرے میں فرش پر سو بھی جاتا تھا‘ہم ایک دوسرے کے بہت قریب تھے‘ وہ میرے کپڑے اور میں اس کے کپڑے پہن لیتا تھا‘ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ”ڈرٹی جوکس“بھی شیئر کرتے تھے۔
ہمارا دوسرا ساتھی انتہائی نالائق تھا‘ وہ کچھ کرسکتا تھا اور نہ کرتا تھا‘ اس کی واحد خوبی چاپلوسی تھی‘ وہ بے انتہا خوشامدی تھا‘ وہ سارا سارا دن باس کی واہ واہ کرتا رہتا تھا‘وہ اس کے جوتے تک پالش کر دیتا تھا‘ باس اس سے بہت تنگ تھا‘ وہ اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتا رہتا تھا لیکن وہ ایسا کاری گر انسان تھا کہ وہ اپنا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتا تھا جب کہ ہمارا تیسرا ساتھی انتہائی بور انسان تھا‘ وہ صرف کام سے غرض رکھتا تھا‘ وقت پر دفتر آتا تھا‘ کسی سے فالتو گفتگو نہیں کرتا تھا‘ لنچ بھی میز پر فائلوں کے درمیان کرتا تھا‘ چائے بھی نہیں پیتا تھا اور آپ یہ جان کر حیران ہوں گے وہ دفتری اوقات میں واش روم بھی نہیں جاتا تھا‘ ہم اسے ببل گم کہتے تھے‘ کیوں کہتے تھے؟ کیوں کہ وہ صبح نو بجے آ کر ببل گم کی طرح کرسی کے ساتھ چپک جاتا تھا اور شام پانچ بجے چھٹی کے وقت اٹھتا تھا‘ وہ ہمیشہ اپنا کام ختم کر کے گھر جاتا تھا‘ اس کی میز پر کوئی کام نہیں ہوتا تھا‘ وہ آندھی‘ طوفان‘ سردی‘ بارش‘ گرمی حتیٰ کہ کرفیو کے دن بھی وقت پر دفتر آ جاتا تھا‘ وہ باس سے معاوضہ بڑھانے کا مطالبہ بھی نہیں کرتا تھا‘وہ باس کے ساتھ فری بھی نہیں ہوتا تھا اور وہ باس کے لطیفے بھی نہیں سنتا تھا‘ باس میرے دونوں ساتھیوں سے تنگ تھا‘ وہ میرے ساتھ ان کی غیبتیں کرتا رہتا تھا۔سال گزر گیا‘ ہماری پروموشن کا وقت آ گیا‘ مجھے یقین تھا میں باس کے قریب ہوں‘ یہ میرا دوست ہے‘ یہ مجھے ضرور پروموٹ کردے گا۔





















































