بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

درآمدی اور برآمدی مصنوعات کی ترسیل روک دی گئی، گڈز ٹرانسپورٹرز کے احتجاج نے انوکھا رنگ اختیار کر لیا

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) گڈز ٹرانسپورٹرز نے رقص کے ذریعے انوکھا احتجاج شروع کر دیا ہے۔  گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، ہڑتال ختم کرانے کے لیے تا حال وفاقی سطح پر احتجاج کرنے والے ٹرانسپورٹرز سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے اڈے پر احتجاجی رقص شروع کر دیا ہے، ٹرانسپورٹرز رقص کے ذریعے اپنا پیغام حکومت تک پہنچانے کی کوشش کرنے لگے ہیں، ترجمان گڈز ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ 5 دن ہو گئے کسی حکومتی نمایندے نے رابطہ نہیں کیا۔گڈز ٹرانسپورٹرزنے نماز جمعہ کے بعد کاٹھور کے مقام پر ایم 9 موٹر وے پر علامتی دھرنا دے کر احتجاج ریکارڈکرایا، کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ پر کارگو ہینڈلنگ کی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں، مقامی اور ملکی صنعتوں کی تیار کردہ برآمدی مصنوعات کی پورٹ تک ترسیلات بھی روک دی گئیں۔ترجمان امداد حسین نقوی نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا، ہڑتال ملک بھر میں جاری ہے، بندرگاہوں، کارخانوں اور ٹرک اڈوں سے مال کی ترسیل مکمل طور ہر بند ہو گئی ہے، ملک کے مختلف شہروں میں مال سے لوڈ گاڑیاں، ٹرک اڈوں اور شاہراہوں پر پانچ دن سے کھڑی ہیں۔یاد رہے کہ ٹرانسپورٹرز نے کہا تھا کہ جمعے تک ایکسل لوڈ لمٹ کا نفاذ، ڈرائیونگ لائسنس اور جرمانوں کے میکنزم میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ تمام مطالبات نہ مانے گئے تو پھر آئل ٹینکر ٹرانسپورٹرز بھی ہڑتال میں شریک ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…