جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ بم دھماکے کے بعد سندھ میں بھی ہائی الرٹ جاری، پولیس کو اہم احکامات دیدئے گئے

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) کوئٹہ بلاسٹ کے تناطر میں آئی جی سندھ نے پولیس کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات جاری کردیئے۔آئی جی سندھ نے ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس سیکیورٹی اقدامات مزید سخت اور غیرمعمولی بنائے جائیں۔تمام پبلک مقامات،اہم سرکاری،نیم سرکاری عمارتوں،دفاتر،ریلوے اسٹیشنز،بس ٹرمینلز،ائیر پورٹس،حساس تنصیبات سمیت مساجد،امام بارگاہوں وغیرہ پرجملہ سیکیورٹی اقدامات کو مربوط اورمؤثر بنایا جائے۔

ڈاکٹرسیدکلیم امام نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مختلف منتخب کردہ مقامات سمیت صوبے کے مضافات اور گنجان آباد علاقوں میں انتیلی جینس اور کڑی نگرانی نظام کو مذید ٹھوس بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے تمام ایس ایچ اوز کو علاقہ گشت،اسنیپ چیکنگ،پکٹنگ اور ویجیلنس کے عمل کو اپنی نگرانی میں انجام دینے کے احکامات بھی دیئے۔ ڈاکٹر کلیم امام نے کہا کہ سیکیورٹی حکمت عملی اور لائحہ عمل کو ہر سطح پر مکمل بریفنگ کے ساتھ نافذالعمل بنایا جائے۔سیکیورٹی اقدامات میں حفاظت خوداختیاری جیسے اقدامات لازمی یقینی بنائیں جائیں۔کسی بھی حوالے سے اختیارات سے تجاوز، غفلت اور لاپروائی ناقابل برداشت ہوگی۔نائٹ پیٹرولنگ پلان اور بالخصوص رات گئے علاقوں میں پولیس سیکیورٹی امور کو انتہائی غیرمعمولی بنایا جائے۔واضح رہے کہ کوئٹہ میں مسجد کے اندرخود کش بم دھماکے کے نتیجے میں ڈی ایس پی سمیت 15نمازی شہید جبکہ 19 زخمی ہوگئے،دھماکے سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا۔پولیس کے مطابق جمعہ کی شام کوئٹہ کے علاقے اسحاق آباد میں واقع مدرسہ دارالعلوم شریعہ کی مسجد میں اسوقت خود کش دھماکہ ہوا جب مغرب کی نماز ادا کی جارہی تھی دھماکے کے نتیجے میں ڈی ایس پی امان اللہ،امام مسجد سمیت15نمازی شہید جبکہ 19 زخمی ہوگئے۔ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں حفیظ الرحمن ولد حاجی عبداللہ، امان اللہ ولد حاجی عبدالنبی،رفیع اللہ ولد عبدالخالق، احمداللہ ولد محمد سرور، اللہ محمدولد عبدالبصیر، کاکا ولد نیک محمد، مطیع اللہ ولد امان،

جہانگیر عرف جان محمد ولد گل خان اور7نامعلوم افراد شامل ہیں جبکہ زْخمیوں میں عظمت اللہ، عبدالہادی، معاذ اللہ،حکمت خان، شمس اللہ، انعام اللہ، قدرت اللہ، جنید، ذاکراللہ،مغفور اللہ، مولوی محمد،جمیل احمد، سیف اللہ،اکبر خان، عبداللہ جان، عبدالغفور، عزیز اللہ، عبداللہ شامل ہیں۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس،ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی نعشوں اورزخمیوں کوفوری طور پر ہسپتال پہنچادیا گیا جہاں زخمیوں کو فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی دھماکے سے مسجد کے اندرونی حصے کوشدیدنقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد پولیس اور ایف سی کے اعلیٰ حکام موقع پرپہنچ گئے اور فوری طور پر بم ڈسپوزل کے عملے کو طلب کرلیاگیا ہے علاقے کو گھیرے میں لیکر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے لگتا ہے کہ دھماکہ خود کش ہے تاہم تحقیقات کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ کہا جاسکتا ہے۔بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جنوری کے پہلے ہفتے کے دوران 2بم دھماکوں کے نتیجے میں 17افراد شہید جبکہ37افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ کوئٹہ کی مسجد میں بم دھماکے کے بعد کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ سیکرٹری صحت بلوچستان مدثر وحید ملک نے کوئٹہ کے علاقے اسحاق آباد کی مسجد میں بم دھماکے کے بعد کوئٹہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل اور ٹیکنیکل سٹاف کو فوری طور پر ڈیوٹیوں پر طلب کرلیا ہے اورانہیں سختی سے ہدایت کی ہے کہ بم دھماکے میں زخمی ہونے والے نمازیوں کو ہرممکن طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…