جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

طیبہ تشدد کیس: سابق جج راجا خرم کی 3 سال کی سزا کالعدم،

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق جج راجا خرم کی تین سال کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک سال کی سزا برقرار رکھی۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن نے طیبہ تشدد کیس میں ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ملزمان راجہ خرم اور ماہین ظفر کی ٹرائل کوٹ کی دی گئی ایک ایک سال کی سزائیں بحال کر دیں۔ عدالت نے سزاؤں میں مزید اضافے کی

حکومتی اپیل پر ملزمان کو نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے نوٹس آرٹیکل 187 کا خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی سیکشن 328 اے کے تحت سزا کیخلاف اپیلیں زیر التواء ہے لہذا اڈیالہ جیل انتظامیہ ملزمان کو عدالتی نوٹس سے آگاہ کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ رجسٹرار آفس ملزمان کو نوٹس موصول ہوتے ہی اپیل سماعت کیلئے مقرر کرے۔ خیال رہے طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016 کو اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں پیش آیا اور تھانہ آئی نائن کی پولیس نے 29 دسمبر کو سابق ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر تشدد کے واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ تین جنوری 2017 کو اس مقدمے میں اہم موڑ اس وقت آیا جب طیبہ کے والدین کی جانب سے راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں اور اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے جج نے اس راضی نامے پر ملزمان کی ضمانت منظور کی۔تاہم راضی نامہ سامنے آنے پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے طیبہ کو بازیاب کروا کے پیش کیا جبکہ عدالتی حکم پر 12 جنوری 2017 کو راجہ خرم علی خان کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تھا جہاں 16 مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افراد شامل تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…