جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

نامعلوم افراد’’پھٹتے آموں کا کیس‘‘کااردو ترجمہ اٹھا کر لے گئے،معروف مصنف محمد حنیف کے سنگین الزامات،جانتے ہیں یہ کتاب پاکستان کے کس آرمی چیف سے متعلق ہے؟

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

کراچی ( اے ایف پی) معروف مصنف محمد حنیف نے الزام لگایا ہے کہ نامعلوم افراد نے 2008 میں لکھی گئی کتا ب کے اردو میں ترجمے کی کاپیاں’’ پھٹتے آموں کا کیس ‘‘،( A case of exploding mango) کتا ب کے پبلشر کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے۔

تاہم یہ کارروائی دس سال بعد کی گئی ہے جب اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے ، کتاب میں 1988کے ہوائی جہاز کے حادثے میں جنرل ضیاالحق کی موت کی سازش کے بارے لکھا گیا تھا، سابق پائلٹ سے صحافی بننے والے ناول نگار 2008 میں شائع ہونے والے اپنے اس پہلے ناول کے حوالے سے معروف ہیں جنرل ضیاالحق حکمرانی کے آخری دنوں اور 1988 میں ان کی موت کا سبب بننے والے طیارہ تباہی کے واقعے کے بارے میں موجود ہزارہا سازشوں کی سرگزشت ہے۔ محمد حنیف نے بتایا کہ خود کو ایک ادارے سے تعلق کا دعویٰ کررہے تھے میرے اردو ناشر کے دفاتر میں داخل ہوئے اور اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگو کے اردو ترجمے کی تمام تر کاپیاں قبضے میں لے لیں اور منیجر کو دھمکا کر ہمارے بارے میں معلومات جاننی چاہیں‘۔ محمد حنیف نے یہ بھی بتا یا کہ ان افراد نے کتب فروشوں کی فہرست حاصل کرنے کے لیے اگلے روز آنے کا کہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…