جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

بھارت بند کے نام سے ہڑتال جاری جانتے ہیں کتنے کروڑ ملازمین نے کام چھوڑ دیا؟

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارت کی دس بڑی مزدور تنظیموں اور یونینوں نے مودی سرکار کی نجکاری کی پالیسی، سرمایہ کاری میں عدم دلچسپی اور مزدور دشمن اقدامات کے کے نتیجے میں ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو) کے مطابق

اگست 2015 میں اپنے مطالبات کے لیے مرکزی حکومت کو 12 نکات پیش کئے تھے جس پر اب تک عملدرآمد نہیں ہوسکا اور اس سے وابستہ دس بڑی تنظیموں کے کروڑوں ملازمین بدھ کو کام پر نہیں پہنچے ۔سی آئی ٹی یو کے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ حکومت بحران میں گھری معیشت کو درست کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ حکومت عوامی وسائل اور اداروں کی نجکاری کررہی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مفاد کے قدرتی ذرائع بھی فروخت کئے جارہے ہیں۔یہ ہڑتال بدھ کو صبح 6 بجے سے شروع ہوچکی ہے اور مسلسل 24 گھنٹے تک جاری رہ کرآج (جمعرات کو) ختم ہوگی۔ پورے بھارت 25 کروڑ سے زائد مزدور، ملازمین اور کارکن اس ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس ہڑتال کو بھارت بند کا نام دیا گیا ہے۔ ٹریڈ یونین کے مطابق انہوں نے مسلسل پانچ برس تک 12 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کا انتظار کیا لیکن نتیجہ صفر رہا۔تمام تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ کا تعین کرکے اس پر عملدرآمد کرایا جائے، دوم تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، مزدور پیشہ طبقے کو سوشل سیکیورٹی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہفتے میں کام کے صرف پانچ دن رکھے جائیں۔ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے مطالبات بھی 12 نکاتی چارٹر کا حصہ ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی نے تمام مزدور تنظیموں کو اس ہڑتال سے باز رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے انہیں بھارت بند ہڑتال کے نتیجے میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…