جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ایران اپنی کس فورس میں پاکستانیوں کو بھرتی کرتا ہےاور اس فوج کو ملک کے کس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

datetime 7  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’پلیز امریکا کو انکار کر دیں‘‘ میں لکتے ہیں کہ ۔۔۔ایران کا موجودہ نظام دو حصوں میں تقسیم ہے‘ سیاسی اور مذہبی‘ ایران کی سیاسی حکومت صدر کے زیر انتظام چلتی ہے‘ ریگولر آرمی ارتش کہلاتی ہے اور اس کا سربراہ کمانڈر انچیف ہوتا ہے‘ ارتش کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہوتا ہے جب کہ ملک کی مذہبی حکومت آیت اللہ کے

ماتحت ہوتی ہے۔یہ ایران سمیت پوری دنیا کی شیعہ کمیونٹی کے روحانی سربراہ ہوتے ہیں‘ ان کی اپنی فوج ہوتی ہے‘ یہ فوج پاس داران انقلاب یعنی اسلامک ریولوشنری گارڈکارپس (آئی آر جی سی) کہلاتی ہے‘ یہ مجاہدین کی فورس ہے اور یہ براہ راست آیت اللہ کو جواب دہ ہوتی ہے‘ پاس داران کے دو حصے ہیں‘ گراؤنڈ فورسزاور قدس فورس‘ پاس داران کی دوسری فورس ”قدس بریگیڈ“ ایرانی سرحدوں سے باہر آپریٹ کرتی ہے‘ مثلاً شام‘ عراق اور یمن میں لڑنے والی شیعہ فورس کا تعلق قدس بریگیڈ سے ہوتا ہے۔اس بریگیڈ میں بھی دو قسم کے لشکر ہیں‘ زینب یون اور فاطمہ یون‘ زینب یون کے جوان پاکستان سے بھرتی کیے جاتے ہیں‘ یہ پارہ چنار‘ گلگت‘ سکردو اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے لیے جاتے ہیں‘ ایران میں انہیں ٹریننگ دی جاتی ہے اور پھر انہیں لڑنے کے لیے شام‘ عراق اور یمن بھجوا دیا جاتا ہے جب کہ فاطمہ یون کے لیے جوان افغانستان سے بھرتی ہوتے ہیں‘ جنرل قاسم سلیمانی قدس بریگیڈ کے سربراہ تھے‘ یہ 21برسوں سے پاس داران انقلاب کا حصہ تھے۔یہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کی مضبوط ترین شخصیت تھے‘ ایران کے گوریلا فوجی ان کی سربراہی میں شام‘ یمن اور عراق میں لڑ رہے ہیں‘ جنرل قاسم سلیمانی نے پچھلے پانچ برسوں میں امریکا کو شام میں ناک سے چنے چبوا دیے‘ یہ عراق اور یمن میں بھی امریکا اور سعودی عرب کو لے کر بیٹھ گئے‘ جنرل قاسم سلیمانی عراق میں دو پرائیویٹ ملیشیا بھی چلا رہے تھے‘ یہ ملیشیا امریکی فوجیوں اور امریکا کے عراقی ایجنٹس کو نشانہ بنا رہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…