جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

یکم اپریل 2019 سے 31 دسمبر 2019 کے دوران مقدمات کے  فیصلوں کی نئی تاریخ رقم کر دی ، کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا ؟ جانئے

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں قائم شدہ 465 ماڈل کورٹس نے یکم اپریل 2019 سے 31 دسمبر 2019 کے دوران مقدمات کے فیصلوں کی نئی تاریخ رقم کردی۔اس وقت پاکستان میں 182 ماڈل کورٹس قتل اور منشیات، 125 ماڈل کورٹس دیوانی اپیلز، دیوانی نگرانیاں، فیملی اور کرایہ داری کی اپیلز کی سماعتوں کے لئے کام کر رہی ہیں جبکہ 158 ماڈل مجسٹریٹس عدالتیں دیگر جرائم کی  سماعت کے لیے

مختص ہیں،اس دوران 10121 قتل، 19928 منشیات اور 56636 مجسٹریٹ ٹرائلز کے فیصلے کیے جا چکے ہیں،مذکورہ عدالتوں نے اب تک 183258 گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔اس کے علاوہ  11890 دیوانی اپیلز، 8523 دیوانی نگرانیاں، 1403 فیملی اپیلز اور 9135 رینٹ اپیلز کے بھی فیصلے کیے گئے ہیں۔541 مجرمان کو سزائے موت جبکہ 1653 مجرمان کو عمر قید کی سزائیں دی گئیں۔دیگر 19351 مجرمان کو مجموعی طور پر 19235 سال, 7 ماہ اور 17 دن کی سزائیں سنائی گئیں. تمام مجرمان کو ایک ارب، 25 کروڑ،  92 لاکھ 48 ہزار اور 165 روپے  جرمانہ عائد کیا گیا۔مجسٹریٹ ٹرائلز میں تیزی سے سماعت کی وجہ سے cheque dishonoring کے 3693 مقدمات میں راضی نامہ ہوا جس کی وجہ سے متاثرین کو عدالتوں کے اندر ایک ارب، 68 کروڑ، 21 لاکھ، 60 ہزار 480 روپے کی ادائیگی ممکن ہوئی۔مقدمات کی تیز ترین سماعتوں کی وجہ سے پاکستان کے 32 اضلاع یا تحصیلوں میں قتل، 58 اضلاع یا تحصیلوں میں منشیات، 51 اضلاع یا تحصیلوں میں دیوانی اپیلز اور نگرانیوں، 48 اضلاع یا تحصیلوں میں فیملی اپیلز اور 71 اضلاع یا تحصیلوں میں کرایہ داری کی اپیلز کے فیصلے کرتے ہوئے یے ان کی تعداد زیرو کردی گئی ہے۔جن اضلاع یا تحصیلوں میں تمام مقدمات ختم ہو گئے ہیں وہاں اب نیا ماحول جنم لے چکا ہے کیونکہ کہ ان جگہوں پر اب قتل کا مقدمہ 10 سے 20 دنوں، منشیات کا مقدمہ دو سے چار دنوں، اور دیوانی، فیملی، رینٹ اپیلز اور دیوانی نگرانیاں 10 سے 30 دنوں کے اندر فیصلہ ہو رہی ہیں۔ ماڈل کورٹس کی کامیابیوں میں وکلاء ، پراسیکیوشن، پولیس، محکمہ صحت اور دیگر اداروں کا مثالی تعاون دیکھنے میں آیا جنہوں نے دن رات ایک کرتے ہوئے اس  تاثر کو تبدیل کردیا کہ پاکستان میں مقدمات تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…