ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

اینکر مرید عباس کے قتل کو پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ، ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کے قتل کیس کو پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا۔ اس دوران کیس چار مرتبہ دیگر عدالتوں میں منتقل کیا گیا تاہم ابھی تک ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی ہے۔نو جولائی کو کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو قتل کیا گیا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم عاطف زمان کو اس فلیٹ سے گرفتار کیا جبکہ ملزم کا بھائی عادل زمان بھاگنے میں کامیاب ہو گیا جسے چند دنوں بعد گرفتار کرلیا گیا۔

بیس اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے کیس کا چالان منظور کرتے ہوئے کیس اے ٹی سی میں منتقل کیا۔ تفتیشی افسر نے کیس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے ملزم نے خضر حیات کو عوامی مقام پر قتل کیا گیا جبکہ مرید عباس کو اس جگہ سے تھوڑے فاصلے پر قتل کیا جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیلا۔اے ٹی سی نے اکیس اگست کو چالان منظور کرتے ہوئے ٹرائل کے لئے کیس اے ٹی سی میں منتقل کیا۔ تیس ستمبر کو اے ٹی سی عدالت ایک نے کیس سے دہشتگردی کی دفعات خارج کر کے کیس واپس سیشن عدالت منتقل کر دیا۔مدعی مقدمہ زارا عباس نے اے ٹی سی کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ خضر حیات کو کراچی کے پوش علاقے میں قتل کیا گیا ہے پولیس نے وقوعہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے لہذا اے ٹی سی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر مقدمہ دہشتگردی عدالت میں چلایا جائے۔ بارہ اکتوبر کو دو گواہوں نے ملزم عادل زمان کو شناخت کیا۔ تئیس اکتوبر کو تفتیشی افسر نے کیس کا چالان جمع کرایا جس میں اکتالیس گواہوں کو شامل کیا گیا۔ دس دسمبر کو محکمہ داخلہ کی جانب سے کیس جیل میں چلانے کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔ کیس جیل کورٹ منتقل ہونے کے بعد بھی ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 13 جنوری کو ہوگی۔دوسری جانب نیب نے بھی ملزم عاطف زمان اور عادل زمان کے خلاف بڑے پیمانے پر فراڈ کیس میں تحقیقات کا آغاز کردیا نیب کے مطابق ملزم نے زید انٹرپرائز اور دیگر ناموں سے پرکشش سرمایہ کاری کی اسکیم کے ذریعے عوام سے فراڈ کیا۔ ایک شہری کی شکایت پر بینکنگ کورٹ نے عاطف زمان کو 13 جنوری تک طلب کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…