جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

اینکر مرید عباس کے قتل کو پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ، ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) اینکر مرید عباس سمیت دو افراد کے قتل کیس کو پانچ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا۔ اس دوران کیس چار مرتبہ دیگر عدالتوں میں منتقل کیا گیا تاہم ابھی تک ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی ہے۔نو جولائی کو کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں اینکر مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو قتل کیا گیا پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم عاطف زمان کو اس فلیٹ سے گرفتار کیا جبکہ ملزم کا بھائی عادل زمان بھاگنے میں کامیاب ہو گیا جسے چند دنوں بعد گرفتار کرلیا گیا۔

بیس اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے کیس کا چالان منظور کرتے ہوئے کیس اے ٹی سی میں منتقل کیا۔ تفتیشی افسر نے کیس میں دہشتگردی کی دفعات شامل کرتے ہوئے ملزم نے خضر حیات کو عوامی مقام پر قتل کیا گیا جبکہ مرید عباس کو اس جگہ سے تھوڑے فاصلے پر قتل کیا جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیلا۔اے ٹی سی نے اکیس اگست کو چالان منظور کرتے ہوئے ٹرائل کے لئے کیس اے ٹی سی میں منتقل کیا۔ تیس ستمبر کو اے ٹی سی عدالت ایک نے کیس سے دہشتگردی کی دفعات خارج کر کے کیس واپس سیشن عدالت منتقل کر دیا۔مدعی مقدمہ زارا عباس نے اے ٹی سی کے فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ خضر حیات کو کراچی کے پوش علاقے میں قتل کیا گیا ہے پولیس نے وقوعہ کو دہشتگردی قرار دیا ہے لہذا اے ٹی سی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیکر مقدمہ دہشتگردی عدالت میں چلایا جائے۔ بارہ اکتوبر کو دو گواہوں نے ملزم عادل زمان کو شناخت کیا۔ تئیس اکتوبر کو تفتیشی افسر نے کیس کا چالان جمع کرایا جس میں اکتالیس گواہوں کو شامل کیا گیا۔ دس دسمبر کو محکمہ داخلہ کی جانب سے کیس جیل میں چلانے کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔ کیس جیل کورٹ منتقل ہونے کے بعد بھی ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 13 جنوری کو ہوگی۔دوسری جانب نیب نے بھی ملزم عاطف زمان اور عادل زمان کے خلاف بڑے پیمانے پر فراڈ کیس میں تحقیقات کا آغاز کردیا نیب کے مطابق ملزم نے زید انٹرپرائز اور دیگر ناموں سے پرکشش سرمایہ کاری کی اسکیم کے ذریعے عوام سے فراڈ کیا۔ ایک شہری کی شکایت پر بینکنگ کورٹ نے عاطف زمان کو 13 جنوری تک طلب کر رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…