جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتی آرمی چیف نے انڈین آرمی کی کمان سنبھالتے ہی بونگیاں مارنی شروع کر دیں ، چین سے متعلق کیا کہا؟ جانئے

datetime 1  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے کہا ہے کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیشگی سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے۔بھارت کے 28ویں آرمی چیف کے طورپر عہدہ سنبھالنے کے بعدبھارتی میڈیا کو دئیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں جنرل نروانے نے کہاکہ

دہشت گردی پوری دنیا کے لیے مسئلہ ہے، بھارت دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے حق میں ہے۔ اب دہشت گردی سے متعدد ممالک متاثر ہو رہے ہیں، ایسے میں پوری دنیا دہشت گردی کے خطرات کو سمجھنے لگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی پالیسی بنائی ہے۔بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت ختم کرکے ریاست میں سدھار ہوا ہے اس میں شک نہیں کہ پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے اور حالات میں سدھار ہوا ہے۔ مسائل ختم نہیں ہوئے ۔ وہ ابھی باقی ہیں لیکن ہم اس سے نمٹنے کے لیے مسلسل سدھارکر رہے ہیں اور آنے والے چیلنجز کا بھی مقابلہ کریں گے۔چین کے ساتھ بھارت کی 3500 کلومیٹر طویل سرحد پر صورت حال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل نروانے نے کہاکہ ووہان سمٹ کے دوران دونوں ملکوں نے اپنی افواج کو اسٹریٹیجک گائیڈلائنز دی تھیں۔ اس کا مقصد سرحد پر امن قائم کرنا تھا۔ اس کے ذریعے ہم مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے اور ان کو تنازعہ بننے سے روکنا چاہتے ہیں۔ بعض امور پر اختلافات اور حساس مقامات پر ٹکراؤ کے باوجود دونوں افواج کے تعلقات دوستانہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…