جنرل بپن راوت ایک دن بعد انڈین آرمی چیف کے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے لیکن بھارت کی کابینہ نے آج ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے آرمی ایکٹ 1950ء میں ترمیم کر دی جس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں کی ریٹائرمنٹ ایج بھی 65 سال کر دی گئی
اور چیف آف ڈیفنس سٹاف کے نام سے ایک نیا عہدہ بھی تخلیق کر دیا گیا یوں جنرل بپن راوت بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس بنا دیے گئے‘ انڈیا میں اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور حکومت کسی بھی جنرل کو ایکسٹینشن بھی دے سکے گی، اس ایگزیکٹو آرڈر کے بعد ملک میں یہ بحث چھڑ چکی ہے اگر انڈیا میں کابینہ کے حکم سے آرمی ایکٹ 1950ء میں ترمیم ہو سکتی ہے، اگر وہاں ایک ایگزیکٹو آرڈر سے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دی جا سکتی ہے یا پھر آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس سٹاف بنایا جا سکتا ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا، میرا خیال ہے ہماری پارلیمنٹ اور حکومت کو بھی اب فیصلہ کر لینا چاہیے، ہمارے سامنے مثال آ چکی ہے، اگر انڈیا یہ مسئلہ حل کر سکتا ہے تو ہم کیوں حل نہیں کر سکتے؟ ہمیں بھی یہ ایشو اب جلد سے جلد نمٹا دینا چاہیے کیوں کہ اس میں جتنی تاخیر ہو گی ہمیں اتنا ہی نقصان ہو گا، پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا، کیا یہ ممکن ہے، حکومت نے نیب کی طرف سے ہواؤں کا رخ بدلنے سے پہلے پورا نیب ہی بدل دیا، نیب پر صدارتی آرڈیننس نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔