جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بھارتی مسلمانوں کے پاس صرف دو مقامات ہیں ، پاکستان یا قبرستان ،بھارت میں مسلمانوں کیساتھ ناروا سلوک روا رکھنے والے پولیس افسران کی حقیقت سامنے آگئی

datetime 26  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھنے والے پولیس افسران کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔پولیس اہلکار نا صرف گھروں میں گْھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں بلکہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے صرف دو مقامات ہیں ۔

پاکستان یا قبرستان۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کے روز اتر پردیش کے علاقے مظفر نگر کے ایک گھر میں کچھ پولیس کی وردی میں جب کہ کچھ افراد سادے لباس میں72 سالہ حاجی حامد حسن کے گھر گھسے جہاں انہوں نے توڑ پھوڑ کی اور نقد لے کر چلے گئے۔رپورٹس کے مطابق پولیس کے تشدد کا شکار ہونے والے حاجی حامد حسن نے بتایا کہ انہوں نے جب توڑ پھوڑ اور تشدد کے خلاف احتجاج کیا توپولیس والوں نے رائفل سے حملہ کیا اور ڈنڈے بھی مارے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس افسر نے گھر میں توڑ پھوڑ کی، واش بیسن، باتھ روم کا سامان، بستر، فرنیچر، فرج اور واشنگ مشینیں اور برتن توڑ دیئے۔72 سالہ ضعیف نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ہنگامہ آرائی 30 سے 40 منٹ تک جاری رہی۔ جس میں انہوں نے گھر میں موجود سب ہی چیزوں کو تباہ کرنے کے بعد الماری میں رکھے ہوئے 5 لاکھ روپے کی نقدی لوٹ لی۔انہوں نے بتایا کہ ’میں نے حال ہی میں اپنی دو پوتیوں کی شادیوں کے لیے زیورات خریدے تھے۔‘حسن کے مطابق پولیس والوں نے خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی کی اور اْن کے بیٹے محمد شاہد کو زدوکوب کیا اور اسے اپنے ساتھ بھی لے گئے جو اب تک پولیس کی تحویل میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…