ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا گیا ، پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے پر نہایت معتبر شخصیت نے ردعمل جاری کر دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ ’’مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا کس کو نہیں پتا کہ آج اسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مزا توجب آتا جب اپ اپنے ان بھائی بندوں کو بھی چڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے وقت امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔

تفصیلات کے مطابق کامران خان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا کس کو نہیں پتا کہ آج اسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مزا توجب آتا جب اپ اپنے ان بھائی بندوں کو بھی چڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے وقت امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔ واضح رہے کہ پاک فوج نے خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے پر باضابطہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ فیصلے سے پاکستان کی مسلح افواج کے ہر رینک میں غصہ اور درد محسوس کیا گیا ہے،پرویز مشرف سابق آرمی چیف ،جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدر پاکستان رہے اور چالیس سال سے زائد ملک کی خدمت کی ہے،ملک دفاع کیلئے جنگیں لڑی وہ کبھی بھی غدار نہیں ہوسکتے ، افواج پاکستان کو دستور پاکستان کے تحت مکمل انصاف کی توقع ہے۔ منگل کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیاکہ ایک سابق آرمی چیف ،چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدر پاکستان جس نے چالیس سال سے زائد ملک کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کیلئے جنگیں لڑی ہیں وہ کبھی بھی غدار نہیں ہوسکتا ۔بیان میں کہاگیاکہ خصوصی عدالت کی تشکیل ، دفاع کے بنیادی حق سے محرومی ،ایک شخص کے خلاف مخصوص کارروائی اور کیس کو جلدی میں نمٹانے سے قانونی اور دستوری تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ۔بیان میں کہاگیاکہ افواج پاکستان کو دستور پاکستان کے تحت مکمل انصاف کی توقع ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…