ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت نے پی آئی سی واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو امدادی رقم پہنچا دی، شرپسندوں کیخلاف بھی اقدام کافیصلہ

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہنگامہ آرائی کے دوران علاج کی معطلی کے باعث جان کی بازی ہارنے والے محمدبوٹا کے اہل خانہ کودس لاکھ روپے کاامدادی چیک دے دیا۔ اس موقع پرڈپٹی کمشنرلاہوردانش افضال بھی صوبائی وزیرصحت کے ہمراہ تھے۔ صوبائی وزیرصحت نے محمدبوٹاکے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کیا۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہاکہ وزیراعلی پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایت پرمحمدبوٹاکے اہل خانہ کوامدادی چیک دیاجارہاہے۔وکلاء گردی کی ماضی میں اتنی بڑی بدترین مثال نہیں ملتی۔پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی سے مالی وجانی نقصان ہوا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث تقریباًپانچ سومریضوں کودوسرے ہسپتالوں میں شفٹ کروانا پڑا۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء برادری بھی پی آئی سی حملہ سے شرمندہ ہے۔ ہم تشددکانشانہ بننے والے ڈاکٹرز، مریضوں، صحافیوں اورراہگیروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایات پروزیر ہاؤسنگ و اربن ڈویلپمنٹ میاں محمودالرشید پی آئی سی میں وکلاء کے حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی خاتون گلشن منیر کی رہائش گاہ غازی آباد گئے اور پنجاب حکومت کی طرف سے مرحومہ کے خاوند کو10لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔میاں محمودالرشید نے مرحومہ کے شوہر قاری منیراحمد برکاتی اور دیگر غمزدہ اہلخانہ سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کیلئے دعائے مغفرت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے کہاکہ وہ وزیراعظم پاکستان عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی طرف سے بھی مرحومہ کے اہلخانہ سے اظہارتعزیت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایات پر اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والے مریضوں کے اہلخانہ کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہسپتال پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

افسوسناک واقعہ میں ملوث وکلاء کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔میاں محمودالرشید نے کہاکہ و کلاء کے ایک گروہ کی طرف سے ہسپتال میں گھس کر ڈاکٹرز کو مریضوں کے علاج سے جبراً روکنا اور توڑپھوڑ ایک قبیح فعل ہے۔ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچاناہے اور ایک انسان کی جان لینا پوری انسانیت کا قتل ہے۔وکلاء کی غنڈہ گردی کے اس واقعہ سے قانون پسندوں کا سرشرم سے جھک گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…