پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

دنیا کی وہ جیل جو 45منزل پر مشتمل ہو گی ،  جیل کونسا ملک تعمیر کروا رہا ہے ؟ جانئے

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی) امریکی شہر نیویارک جہاں اپنی فلک بوس عمارتوں کیلئے مشہور ہے وہیں اس کا شمار دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ اب نیویارک کے حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں دنیا کی سب سے اونچی جیل بنائی جائے جس کی 45 منزلیں ہوں گی اور جہاں مختلف جیلوں میں رکھے گئے قیدی منتقل کیے جائیں گے۔یہ جیل اپنی تعمیر سے لے کر سکیورٹی انتظامات تک، ہر چیز کے

اعتبار سے ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگی (البتہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں)۔ تاہم اتنا ضرور طے ہے کہ اسے اتنا مضبوط بنایا جائے گا کہ شدید دھماکے اور زلزلے میں بھی صحیح سالم رہ سکے۔ یہ امکان بھی ہے کہ اس میں قیدیوں کو اپنے دور دراز عزیزوں سے بذریعہ انٹرنیٹ رابطے کی محدود سہولت بھی دی جائے گی لیکن اس دوران بھی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔فی الحال نیویارک کے قریب ایک جزیرے پر ’’رائکرز آئی لینڈ کمپلیکس‘‘ نامی جیل قائم ہے جس کا رقبہ 43 ایکڑ ہے جہاں اس وقت 11 مختلف جیلوں سے لائے گئے 7000 قیدی رکھے گئے ہیں۔ تاہم اب اس جیل کو ختم کرکے اس کی جگہ مرکزی نیویارک سٹی میں 45 منزلہ جیل بنانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نیویارک اسٹیٹ کے مزید تین شہروں میں بھی اسی طرح کی فلک بوس جیلیں بنانے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے۔امریکا میں انسانی اور سماجی حقوق کے علمبردار حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے جن کا کہنا ہے کہ ایک کھلی جگہ میں قیدیوں کے پاس چلنے پھرنے کے بہتر مواقع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی صحت زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، چھوٹی جگہ پر بلند و بالا عمارت میں قید کیے جانے پر ان کا چلنا پھرنا محدود ہوجاتا ہے جس سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اندر بلند و بالا قید خانے کی عمارت نہیں بننی چاہیے، خواہ وہ کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی سے کیوں نہ آراستہ ہو۔اس تنقید کے جواب میں میئر نیویارک نے ایک اعلان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا اصل مقصد جرائم میں کمی لانا ہے تاکہ کم سے کم لوگوں کو جیل میں ڈالنا پڑے۔متوقع طور پر ان تمام جیلوں میں مجرموں کی ذہنی تربیت اور نفسیاتی بحالی کے خصوصی پروگرام جاری رکھے جائیں گے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، نیویارک کے حکام نے ان عمارتوں کی اونچائی کم کرکے 29 منزلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یہ عمارتیں 2026 تک مکمل ہوجانے کی امید ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…