جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

292 مقدمات کا فیصلہ! چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کتنے مجرموں کو سزائے موت اور کتنے قیدیوں کو عمر قید کی سزا سنادی ؟

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی( آن لائن ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدائیت پرپاکستان بھر کی میں قائم465 ماڈل عدالتوں نے گزشتہ روز مجموعی طور پر 292 مقدمات کا فیصلہ کیا جن میںایک مجرم کو سزاے موت 8 کو عمر قید جبکہ دیگر11 مجرمان کو کل32سال8 ماہ 5 دن قید

اور35لاکھ86ہزار300روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل سہیل ناصر کے مطابق 182 ماڈل کریمینل ٹرائل کورٹس نے قتل کے25اور منشیات کے33مقدمات یعنی58مقدمات کا فیصلہ سنایا عدالتوں نے کل177گواہوں کے بیانات قلمبند کئے صوبائی تقسیم کے مطابق پنجاب میں قتل کے10اور منشیات کے7اسلام آباد میں منشیات کے1، سندھ میں قتل کے13اور منشیات کے15، خیبر پختونخواہ میں منشیات کے7 جبکہ بلوچستان میں قتل کے2اور منشیات کے3مقدمات کا فیصلہ ہوا اسی طرح 125سول ایپلٹ ماڈل عدالتوں نے 80دیوانی، فیملی اور رینٹ اپیلوں و درخوست نگرانی کے فیصلے کئے جبکہ158 ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے154مقدمات کے فیصلے کر دیے دریں اثناعدالتوں نے199گواہوں کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے 63مجرمان کو 39سال اور23دن قید اور 10لاکھ90ہزار90روپے جرمانہ کی سزا سنادی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…