جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

چیئرمین نیب نے جو کہا کر دکھایا ، ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اہم فیصلے کر لئے گئے

datetime 11  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (سی پی پی)قومی احتساب بیورو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے ایک بدعنوانی کاریفرنس دائر کرنے، 2 انوسیٹی گیشنز اور 4 انکوائریوں کی منظوری دی ہے۔ ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت بدھ کو نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔

اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤ نٹبیلٹی نیب، ڈی جی آپریشن نیب اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں عبدالحمید مینگل پراجیکٹ ڈائریکٹر بی آئی ڈبلیو آر ایم ڈی پی محکمہ آبپاشی حکومت بلوچستان اور دیگر کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپر نوری گورج انٹی گریٹڈ سکیم کا غیر قانونی طور پر ٹھیکہ دینے کاالزام ہے۔جس سے قومی خزانے کو 216.294 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 2 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی گئی جن میں افسران و اہلکاران اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کراچی، سندھ، افسران و اہلکاران ریونیو ڈپارٹمنٹ اسکیم 33- گلزار ہجری، ضلع کراچی اور دیگرکے خلاف انوسٹی گیشنز شامل ہیں۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 4 انکوائریوں کی منظوری دی گئی جن میں منظور احمد کنیسر ڈائریکٹر جنرل محکمہ ثقافت حکومت سندھ، ڈائریکٹر ڈائریکٹوریٹ آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ورکس حکومت سندھ، آفیسرز/آفیشلزلینڈیو ٹیلائزیشن ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ، میر نادر مگسی رکن صوبائی اسمبلی سندھ،آفیسرز/آفیشلزلینڈ لوکل گورنمنٹ دپارٹمنٹ اینڈ پرووینشل ہائی ویز ڈپارٹمنٹ،بلاول شیخ کنٹریکٹر،پرس رام کنٹریکٹر اور دیگر، نواب سردار خان چانڈیو، رکن صوبائی اسمبلی سندھ اور دیگرکے خلاف انکوائریزشامل ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پرو فیسر ڈاکٹر مجیب الدین میمن وائس چانسلر سندھ ایگریکلچرل یونیورسٹی ٹنڈو جام اور دیگر افسران و اہلکاران پرووینشل ہائی وے ڈویژن سانگھڑ اور دیگر کے خلاف انکوائریز اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق بند کرنے کی منظوری دی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس نے پی آئی اے سی پروکیورمنٹ اینڈ لوجسٹکس ڈپارٹمنٹ کے ملازمین اور دیگر کے خلاف انکوائری کو قانو ن کے مطابق مزید کاروائی کے لئے پی آئی اے سی انتظامیہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس نے عبدالجبار بھٹو،سید احمد شاہ اور دیگر کے خلاف انکوائری کو قانو ن کے مطابق مزید کاروائی کے لئے چیف سیکرٹری سندھ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس نے افسران و اہلکاران نیشنل ہائی وے اتھارٹی،اشرف ڈی بلوچ سرکاری ٹھیکہ دار اور دیگرکے خلاف انکوائری کے سلسلے میں این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے ٹیکنیکل رپورٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

چئیرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے احتساب سب کیلئے کی پالیسی کے تحت گزشتہ26 ماہ میں 153 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے سراہا خصوصا ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ میں نیب کی آگاہی اور تدارک کی پالسیی کو سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزاز ہے۔”نیب کا ایمان -کرپشن فری پاکستان “ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی سزا دلوانے کی مجموعی شرح 70 فیصدہے۔نیب نے گزشتہ 26 ماہ میں 630 مقدمات میں بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتساب عدالت میں دائرکئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب مضاربہ/مشارکہ کے 44 ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے عوام کی لوٹی گئی اربوں روپے کی رقوم برآمد کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ چئرمین نے کہا کہ نیب کے اس وقت 1261 بدعنوانی کے ریفرنسز ملک کی 25معزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریبا 943 ارب روپے ہے۔انہوں نے کہا کے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائی جائیں۔چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کی ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کیلئے خدمات کو انتہائی قدر کی نظر سے دیکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…