جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

ہم 72 سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر پہلی بار آرمی چیف کی مدت ملازمت پرقانون بنائیں گے،کل سے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بھی تنازع بن جائے گا، کیا اِن ہاؤس تبدیلی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا اور پارلیمنٹ کے فیصلے سپریم کورٹ کے پاس کیوں جا رہے ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

جنت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام جب دو ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے قانون متعارف کرا دیا‘ فرمایا گیا تم اب اس درخت کا پھل نہیں کھاؤ گے‘ وجہ پوچھی تو بتایا تم اب اکیلے نہیں ہو‘ تم اب خاندان‘ تم اب معاشرہ ہو اور کوئی معاشرہ‘ کوئی خاندان قانون کے بغیر نہیں چل سکتا، اللہ نے یہ فیصلہ آج سے لاکھوں سال پہلے کر دیا تھا لیکن ہم یہ ملک قانون کے بغیر چلانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں‘

آپ باقی باتیں چھوڑ دیں آپ صرف دو تازہ ترین مثالیں لے لیں‘ ملک میں 72 سال سے آرمی چیف مقرر ہو رہے ہیں لیکن ہمیں پچھلے ہفتے پتا چلا قانون میں کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت‘ ایکسٹینشن‘ ری ایمپلائمنٹ‘ مراعات اور تنخواہ کا ذکر ہی موجود نہیں لہٰذا ہم 72 سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر پہلی بار یہ قانون بنائیں گے‘ دوسری مثال الیکشن کمیشن ہے‘ یہ ملک کا مقتدر ترین آئینی ادارہ ہے‘ اس کے چار ممبر اور ایک چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے‘ ارکان اور چیف کا تعین وزیراعظم اور اپوزیشن مل کر کرتے ہیں‘ ان میں اتفاق رائے نہ ہو سکے تو پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرتی ہے اور اگر یہ بھی فیصلہ نہ کر سکے تو پھر اچانک آئین خاموش ہو جاتا ہے، اس سے آگے ڈیڈ اینڈ آ جاتا ہے‘یہ ڈیڈ اینڈ بھی آ چکا ہے لہٰذا اپوزیشن کے گیارہ ارکان نے آج اس مسئلے کے حل کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رابطہ کر لیا، کل چیف الیکشن کمشنر کا آخری دن ہے، ان کے جاتے ہی الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا، سندھ اور بلوچستان کے ارکان 11ماہ سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان وجہ نزع بنے ہوئے ہیں‘ کل سے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بھی تنازع بن جائے گا‘ مجھے لگتا ہے کسی دن اگر وزیراعظم اور صدر کے عہدوں کا کھاتا بھی کھل گیا تو پتا چلے گا آئین میں ان کی گنجائش بھی موجود نہیں‘ آپ دیکھ لیجیے ہم کس طرح پہیوں کے بغیر گاڑی چلا رہے ہیں، کیا حکومت نے آصف علی زرداری کو بھی ملک سے باہر بھجوانے کا فیصلہ کر لیا‘ کیا اِن ہاؤس تبدیلی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا اور پارلیمنٹ کے فیصلے سپریم کورٹ کے پاس کیوں جا رہے ہیں‘یہ اہلیت کی کمی ہے یا بدنیتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…