جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سی پیک منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر،فنڈز کے اجراء میں بھی کمی،اہم ادارہ 10ارب ڈالرز کا مقروض ہوگیا،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں انکشافات ہوئے ہیں کہ سی پیک کے مشرقی روٹ ایم۔8 کیلئے گزشتہ دو سالوں سے فنڈر جاری بھی نہیں کئے ہیں جبکہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز دیگر منصوبوں پر خرچ کر دیتی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اس ادارہ کی ری سٹرکچرنگ کی جائے اگر ری سٹرکچرنگ میں دیر کی گئی تو ادارہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ یہ ادارہ پہلے ہی10ارب ڈالر کا مقروض ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی  کا اجلاس سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت  ہوا جس میں وزیر مواصلات،منصوبہ بندی خزانہ،این ایچ اے کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی،وزارت منصوبہ بندی کے ترجمان نے بتایا کہ معاشی حالات کے باعث سی پیک منصوبوں کو فنڈز اجراء  میں کمی آرہی ہے جس کے نتیجہ میں یہ منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوسکیں گے۔این ایچ اے10 ارب ڈالر کا مقروض ہے جو صرف ہر  سال سود ادا کرتا ہے،اصل رقوم ادا نہیں کررہا۔وزارت خزانہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص فنڈز سے ہی قرضے  کے پیسے کاٹ رہا ہے جس پر کمیٹی ممبران نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس روش کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ این ایچ اے کے اندر لوگوں نے اپنی اپنی عدالتیں قائم کر رکھی ہیں جس سے ادارہ تباہ حالی کی طرف متحرک ہے۔قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ بابوسرپاس سے کاغان روڈ کے لئے حاصل کی گئی زمین کے مالکان کو1ارب40کروڑ روپے ادا کرنے کا ٹائم فریم اورطریقہ کار ایک ہفتہ کے اندر اندر کمیٹی کو بھیجا جائے،یہ ادائیگیاں گزشتہ 20سال سے نہیں ہوئی ہیں۔کمیٹی نے بڑے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر جو کرپشن میں پکڑے جاتے ہیں انہیں بعد میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیاجارہا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی پیک منصوبے بروقت مکمل نہیں کئے جاسکیں گے کیونکہ فنڈز کے اجراء  میں بڑی تاخیر ہورہی ہے۔خضدار سے رتوڈیرو ایم 8 سڑک بھی تاخیر کاشکار ہے اس منصوبے کا دوبارہ پی سی ون تیار کیا جارہا ہے،5ارب کے فنڈز پڑے ہیں لیکن منصوبہ کا ڈیزائن نہ مکمل ہونے کی وجہ سے یہ فنڈز خرچ نہیں ہوسکے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ بروقت منصوبوں کی تاخیر کے ذمہ دار تمام سرکاری اور نجی افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…