جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

صرف  ماہ کے دوران کتنی بڑی رقم قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذرہوگئی؟ملکی دفاع کی مد میں  رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں کتنی رقم خرچ ہوئی؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے قرضوں پر سود کی ادائیگی اور ملکی دفاع کی مد میں  رواں مالی سال کی ابتدائی سہ ماہی میں 814 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ رقم ریونیو میں دہرے ہندسوں میں ہونے والے اضافے کے باوجود حکومت کی آمدنی سے بھی زائد ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے گذشتہ روزجاری کی گئی وفاقی مالیاتی آپریشنز کی سمری کے مطابق جولائی تا ستمبر  قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد وفاقی حکومت کی آمدنی  منفی 67  ارب روپے رہی۔

سمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی ترقی پر اخراجات میں  بھاری کٹوتی کے باوجود بنبیادی طور پر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی  ضروریات کی وجہ سے وفاق کے اخراجات دہرے  ہندسوں میں رہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد  پہلی سہ ماہی میں 814.2   روپے کے اخراجات اس مدت کے دوران  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جمع کردہ ٹیکسوں کے حجم کا 84.4 فیصد کے مساوی تھے۔ پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کا حاصل کردہ ریونیو 964.4 ارب روپے تھا۔جولائی تا ستمبر حکومت نے اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں  571.6 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ رقم گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 64.6  ارب روپے (12.8) فیصد زیادہ ہے۔ اسی مدت میں  دفاعی اخراجات 242.6 ارب روپے رہے جو گذشتہ مالی سال  کی اسی مدت کی نسبت 10.7 فیصد زائد ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد  میں آمدنی سے  زیادہ اخراجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک معاشی جھٹکوں سے سنبھل نہیں سکی۔اگرچہ پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ  مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.7 فیصد (286ارب روپے)رہا۔ پہلی سہ ماہی میں  بجٹ خسارے میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی وجہ چاروں صوبوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ تھا۔  اس عرصے میں حکومت  کی ٹیکس و نان ٹیکس آمدنی اور دیگر ٹیکس  بڑھ کر دہرے ہندسوں میں داخل ہوگئے مگر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی وجہ سے

انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بجٹ کا حجم غیراہم حد تک محدود ہوگیا۔ہوتا ہے کہ انسانی ترقی پر اخراجات میں  بھاری کٹوتی کے باوجود بنبیادی طور پر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی  ضروریات کی وجہ سے وفاق کے اخراجات دہرے  ہندسوں میں رہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد  پہلی سہ ماہی میں 814.2   روپے کے اخراجات اس مدت کے دوران  فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جمع کردہ ٹیکسوں کے حجم کا 84.4 فیصد کے مساوی تھے۔پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کا حاصل کردہ ریونیو 964.4 ارب روپے تھا۔ جولائی تا ستمبر حکومت نے اندرونی و بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں  571.6 ارب روپے خرچ کیے۔

یہ رقم گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 64.6  ارب روپے(12.8) فیصد زیادہ ہے۔ اسی مدت میں دفاعی اخراجات 242.6 ارب روپے رہے جو گذشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 10.7 فیصد زائد ہے۔قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی مد  میں آمدنی سے زیادہ اخراجات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ابھی تک معاشی جھٹکوں سے سنبھل نہیں سکی۔ اگرچہ پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا محض 0.7 فیصد (286ارب روپے)رہا۔پہلی سہ ماہی میں  بجٹ خسارے میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی وجہ چاروں صوبوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ تھا۔  اس عرصے میں حکومت  کی ٹیکس و نان ٹیکس آمدنی اور دیگر ٹیکس  بڑھ کر دہرے ہندسوں میں داخل ہوگئے مگر قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی وجہ سے انسانی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بجٹ کا حجم غیراہم حد تک محدود ہوگیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…