جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

 ملک کو چلانے کے سلیقے جاننے والے کو جیل اور نااہل لوگوں کو مسلط کر دیا ہے،مولانا فضل الرحمن  شدید مشتعل، بڑا اعلان کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)  جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو چلانے کے سلیقے جاننے والے کو جیل اور نااہل لوگوں کو مسلط کر دیا ہے، نااہلوں کو حکومت عطا کردی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟، آصف علی زر داری کی صحت کیلئے دعا گو ہیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے دعا گو ہوں۔

انہوں نے کہاکہ میری دعائیں آصف علی زرداری کے لیے ہیں،اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے،یہ اس وقت ملک کی ٹاپ لیڈر شپ ہے اور انتہائی قابل احترام ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے ساتھ جو رویہ روا رکھا ہوا ہے وہ انتہائی گرا ہوا کردار ہے جو اس وقت حکومت کے ایوانوں سے قوم کے سامنے آرہا ہے،جو ملک چلانے کے سلیقے جانتا ہے ان کو جیل میں ڈال دیا گیا جو نااہل ہیں انہیں مسلط کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ نااہلوں کو حکومت عطا کردی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟،اس وقت ملک پر قابض افراد پتھر دل لوگ ہیں جو سیاسی قیادت پر جبر روا رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن سیاست دانوں کی عمر 70 سال سے بھی تجاوز کرچکی لیکن وہ استقامت کا مظاہرہ کررہے ہیں،بنیادی طور پر سیاسی قیادت کی گرفتاری ناجائز عمل ہے،حکمران خود اتنے بڑے چور اور کرپٹ ہیں کہ 60 درخواستیں مختلف عدالتوں میں دائر کرچکے۔ انہوں نے کہاکہ انکی 60 کی 60 درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں اس کے باوجود الیکشن کمیشن ان کے خلاف فیصلہ نہیں کرپا رہا،دوسری جانب سینئر سیاستدانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور پیش کیا جاتا ہے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو چلانے کے سلیقے جاننے والے کو جیل اور نااہل لوگوں کو مسلط کر دیا ہے، نااہلوں کو حکومت عطا کردی گئی ہے تو ملک کیسے چلے گا؟، آصف علی زر داری کی صحت کیلئے دعا گو ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…